30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وفیما کتبت علیہ فان قلت سیأتی عن البدائع ان الاوداج متصلۃ من القلب بالدماغ،فیحصل فریہا بالذبح فوق العقدۃ ایضا لامحالۃ،ولاشك ان ذٰلك بین اللبۃ والحیین،فیجب الحل،قلت سنذکر ھناك ان المراد ثمۃ بالاوداج الودجان اذھما المتصلان من الدماغ الی القلب لا الحلقوم والمری [1]۔واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ |
پر میں نے حاشیہ میں نے لکھا اگر تجھے اعتراض ہوکہ بدائع سے عنقریب نقل ہوگا کہ اوداج رگیں دل ودماغ سے متصل ہوتی ہیں توگھنڈی سے اوپر ذبح کرنے میں لازمًا یہ رگیں کٹ جائیں گی اور اس میں شك نہیں کہ یہ جبڑوں اور لبہ کے درمیان میں ہے۔تو گھنڈی سے اوپر ذبح میں حلال ہوجانالازمی ہے۔میں جواب میں کہوں گا کہ وہاں اوداج سے دو دوجان رگیں مراد ہیں کیونکہ یہ دونوں دل تا دماغ متصل ہوتی ہیں،باقی دو یعنی حلقوم اورمری مراد نہیں ہیں،والله تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔(ت) |
مسئلہ ۷۸: از شہر گورکھپور محلہ اسمعیل پور مرسلہ محمد عبدالواسع صاحب حنفی ۲۳ذیقعدہ ۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ جو شخص ذبیحہ کو ذبح کرتا ہو اور اس کے ساتھ دوسرا ایك او رجو شریك حال ہو کر ذبیحہ کے اعضاء پکڑے ہوئے ہے،اگر ذبحہ کرنے کے علاوہ یہ ایك اس کا شریك حال تکبیر نہ کہے تو کیا ذبیحہ حرام ہوجائے گا؟ یعنی کیا ذبح کرنے والا اور اس کے شریك حال دونوں کےلئے ذبح کے وقت تکبیر کہنا لازم وضروری ہے یانہیں؟
الجواب:
ذبیحہ کا ہاتھ پاؤں پکڑنے والا بندش کی رسی کی طرح ہے۔اس پرتکبیر کچھ ضروری نہیں بلکہ وہ اہل تکبیر میں سے بھی ہونا ضروری نہیں،اگر مشرك یا مجوسی ہو جب بھی ذبیحہ میں فرق نہ آئے گا،وہ معین ذابح جس پر تکبیر کہنا ضرور ہے وہ ہے کہ ذابح کا ہاتھ ضعیف ہو تنہا اس کی قوت سے ذبح نہ ہوسکتاہو،یہ شخص نفس فعل میں اس کی امداد کرے اس کے ساتھ چھری پر ہاتھ رکھے اور ذبح دونوں قوتوں کے اجتماع سے واقع ہو،اس حالت میں دونوں پر تکبیر لازم ہے۔ایك بھی قصدا چھوڑے گا ذبیحہ مردار ہوجائے گا لانہ اذا اجتمع المبیح والمحرم غلب المحرم(کیونکہ مباح کرنے والی اورحرام کرنیوالی دلیلیں جمع ہوں تو حرام کی دلیل کو غالب کیا جاتاہے۔ت)درمختارمیں ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع