30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
شمل ما اذا کان الذابح اثنین فلو سمی احد ہما وترك الثانی عمدا حرم اکلہ [1]۔ |
جب ذبح میں دو شخص شریك ہوں تو بسم الله پڑھنا دونوں پر شرط ہے۔اگر ایك نے پڑھا اور ایك نے پڑھنا ترك کیا یا یہ خیال کیا کہ ایك کا پڑھنا کافی ہے کھانا حرام ہوگا۔(ت) |
درمختارمیں خانیہ سے ہے:
|
فوضع یدہ مع یدا لقصاب فی الذبح و اعانہ علی الذبح،سمی کل وجوبا فلو ترکہا احدہما وظن ان تسمیۃ احدہما تکفی حرمت [2]۔ |
ذبح کرنے میں معاون نے قصاب کے ساتھ اپنا ہاتھ بھی ذبح میں چھری پررکھا تو دونوں بسم الله بطور وجوب پڑھیں،ایك نے نہ پڑھادوسرے نے ترك کیا یا ایك کے پڑھنے کو کافی جانا،جانورحرام ہوگا۔(ت) |
شرح نقایہ علامہ برجندی میں ہے:
|
یشترط تسمیۃ من اعان الذابح بحیث وضع یدہ علی المذبح کما وضع الذابح حتی لو ترك احدہما التسمیۃ لایحل،ذکرہ فی فتاوی قاضی خاں [3]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
ذبح میں معاون نے اپنا ہاتھ قصاب کے ساتھ چھری پر رکھا تو دونوں کا بسم الله پڑھنا شرط ہے،اگر ایك نے بسم الله کو ترك کیا تو حلال نہ ہوگا۔اس کو فتاوٰی قاضیخاں میں ذکر کیا ہے۔والله تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ۷۶: مرسلہ بھولا گھمیار دکاندار سیہراؤں،ڈاکخانہ پٹی،تحصیل قصور ضلع لاہور ۱۵ ربیع الاول شریف ۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین حنفیہ اس مسئلہ میں کہ ذبح کے وقت جس بکرے کی گھنڈی سر کی طرف ایك چھلہ دار بھی نہ رہے وہ عندالشرع حلال ہے یاحرام؟ بینوا توجروا
الجواب:
اس مقام میں تحقیق یہ ہے کہ ذبح میں گھنڈی کا اعتبار نہیں،چاروں رگوں میں سے تین کٹ جانے پر مدارہے۔اگر ایك یا دو رگ کٹی حلال نہ ہوگا اگرچہ گھنڈی سے نیچے ہو،اور اگر چاروں یا کوئی سی تین کٹ گئیں تو حلال ہے اگر چہ گھنڈی سے اوپر ہو،رد المحتار میں ہے:
|
ان کان بالذبح فوق العقدۃ حصل |
اگر گھنڈی سے اوپر ذبح میں چار میں سے تین رگیں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع