30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الایمین واما التسمیۃ فہی شرط[1]۔وہمدرانست قال ابن القاسم الصواب ان یضجعہا علی شقہا الا یسر، وعلی ذٰلك مضی عمل المسلمین،فان جہل فاضجعہا علی الشق الاخر لم یجز اکلہا [2]۔درتنویر الابصار کرہ ترك التوجہ الی القبلۃ [3]۔دردرمختار ست لمخالفتہ السنۃ [4]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
جانور کی گردن کے دائیں پہلو پر پاؤں رکھنا مستحب ہے لیکن بسم الله پڑھنا شر ط ہے،اور اسی میں ہے ابن قاسم نے فرمایا بہتر یہ ہے کہ جانور کو بائیں پہلو لٹایا جائے مسلمانوں کا یہی طریقہ جاری ہے اگر جہالت کی اور جانور کو دوسرے پہلو لٹایا تو کھانا جائزنہ ہوگا۔تنویر الابصارمیں ہے کہ قبلہ کی جہت کا ترك مکروہ ہے۔درمختارمیں ہے کہ یہ سنت کے مخالف ہے،والله تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ۷۵: از شہر لاہور مرسلہ انوارالحق تحصیل چونیاں روز جمعہ ۲ ۱ذی الحجۃ الحرام ۱۳۳۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ جس طرح ذابح پر تسمیہ پڑھنا ضروری ہے اسی طرح معین ذابح پر تسمیہ پڑھنا ضروری ہے یانہیں؟ اور معین ذابح کس کو کہتے ہیں؟
الجواب:
معین ذابح سے یہی مراد ہے کہ ذابح کا ہاتھ کمزور ہو،ذبح میں دقت دیکھے تو دوسرا اس کے ساتھ چھری پر ہاتھ رکھ کر دونوں مل کر ہاتھ پھیریں،اس صورت میں دونوں پر تکبیر واجب ہے۔اگر ان میں سے کوئی بھی قصدا تکبیرنہ کہے گا،ذبیحہ مردار ہوجائے اگرچہ دوسرا تکبیر کہے،دیوبندی قول محض غلط وجہالت ہے۔تکبیر ذابح پر لازم فرمائی گئی ہے،اور ہاتھ پاؤں پکڑنا ذبح نہیں، ہاتھ پاؤں پکڑنے والا مثل رسی کے وہی کام دے رہا ہے جو ایك رسی دیتی ہے۔اس پر تکبیرلازم ہونا درکنار،اگر مجوسی یا بت پر ست ہاتھ پاؤں پکڑے گا ذبیحہ میں خلل نہ آئے گا،تنویر الابصارمیں تھا:تشترط التسمیۃ [5](بسم الله پڑھنا شرط ہے۔ت)در مختار میں اس طرح کی شرح فرمادی:من الذابح [6](ذبح کرنے والے سے۔ت)ردالمحتارمیں فرمایا:
[1] عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری کتاب الاضاحی باب من ذبح الاضاحی بیدہ ادارۃالطباعۃ المنیریۃ بیروت ۲۱/ ۱۵۵
[2] عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری کتاب الاضاحی باب من ذبح الاضاحی بیدہ ادارۃالطباعۃ المنیریۃ بیروت ۲۱/ ۵۵،۱۵۴
[3] درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الذبائح مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۲۸
[4] درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الذبائح مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۲۸
[5] درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الذبائح مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۲۸
[6] درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الذبائح مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۲۸
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع