30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۲)یہاں کے مشرکین کے ساتھ اگرابتداءً معاہدہ کاشت اس صورت پرکیا جائے کہ یہ زمین مثلا اتنے سال کےلئے روپے بیگھہ پر تمھیں دی،اگر کسی فصل یا سال تمام پر(جو باہم ٹھہر جائے)بقایارہے گی تو سوائی یا ڈیوڑھی یا دونی(جو قرار پائے)اس زمین کی اجرت متصورہوگی۔تو حسب قرار ادا لے سکتا ہے۔اور اگر پہلے معاہدہ صرف روپے بیگھہ پر ہوا،اور باقی ٹوٹنے کے بعد باقی میں اس سے زیادہ کیا چاہے تو یہ حرام ہے کہ خلاف معاہدہ ہے۔
|
قال اﷲ " یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَوْفُوۡا بِالْعُقُوۡدِ ۬ؕ "[1]۔ |
الله تعالٰی نے فرمایا اے ایمان والو! عقود کو پورا کرو۔(ت) |
اور اگر باقی میں زیادہ نہ لے بلکہ اس سے صاف کہہ دے کہ باقی پوری ادا ہوگئی اس کا تم پر کچھ نہ رہا،مگر وقت پر ادا کرنے کا اتنا حرجہ دے،تو یہاں کے مشرکین سے جائز،چاہے اس کا فرضی نام بیع سلم رکھے والله تعالٰی اعلم۔
(۳)پہلی صورت میں کہ وہ داخل معاہدہ تھی حساب میں بتائی جاسکتی ہے۔اور دووسری صورت میں اس کا حساب سے ادا کرنا لازم ہوگا،یعنی یوں کہے گا کہ بقایا لگان تو تجھ پر اس قدرہے۔اور بوجہ تاخیر اتنا بیع سلم کادینا ہوگا۔والله تعالٰی اعلم۔
(۴)ہاں ہوسکتا ہے جبکہ مزارع یہاں کا مشرك ہے،والله تعالٰی اعلم۔مسلمان سے مطلقًا ناجائز،اور فرض ہے کہ اسی کے وہ روپے اسے واپس دے وہ نہ رہا ہو اس کے ورثہ کو دے،ان کا پتہ نہ چلے تو اس کی طرف تصدق کرے بخوشی کا لفظ بے معنی ہے بغیردباؤ کے ناممکن ہے کہ کوئی دس روپے کے بدلے سیر بھر گیہوں پر راضی ہو،اور اگریہاں کا مشرك ہے اور اس سے قید معاہدہ پر زیادہ لیا گیا تو وہ بھی حسب بیان جواب دوم ناجائز ہے گیہوں کایہ معاملہ اس سے کرنا فضول ہے کہ یہ دس روپے بروجہ خبیث آئے،اس مشرك کی ایسی رضا سے وہ خبیث نہ جائے گا کہ وہ دباؤ کی رضا ہے نہ کہ حقیقۃ،اور حقیقۃ بھی ہو تو اس پر مواخذہ حق الله کا ہے کہ خلاف حکم کیا،بلکہ سیر بھر گیہوں کسی مسلما ن محتاج کے ہاتھ جتنے کو وہ بخوشی راضی ہو بیع کرے پھر وہ روپیہ بہ نیت تصدق مال خبیث اس محتاج کو دے،پھر اس سے گیہوں کے زرثمن میں لے۔والله تعالٰی اعلم۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع