30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بغیر کسی نفع کے دئے جاسکتے ہیں،مگر تم کو اپنے کھاتے پر معہ ۸/ سال بھر کے اضافہ کرنے ہوں گے،یہ صورت جائز ہے یانہیں؟
(۲)جن اسامیوں سے کہ بقایا پچھلی وصول کرنا خواہ وہ تمسك ہے یا معاہدہ زبانی ان سے ۳ / روپیہ یا چھ آنہ روپیہ اس صورت میں لینا اول اپنا اصلی مطالبہ لے لیا گیا تھا،پھر زید نے مشرك کاشتکار سے کہاکہ مطالبہ تیرا اداہوگیا اب تو بیع سلم کے اس قدر روپے اور ادا کرو یہ رقم لینا جائز ہوگی یا نہیں؟
(۳)اگرکاشت کار نے اپناحساب سمجھا تو وہ رقم جو زائد ہے اس کو حساب میں بتایا جاسکتاہے یانہیں؟
(۴)جو تمسکات کہ ۱۳۲۱ ف میں لکھے جاچکے ان کا وصول بھی اس طرح ہوسکتاہے یانہیں کہ تمھارا اصل مطالبہ ادا ہوگیا،اب اتنا بیع سلم کا دے دو،اگر دس روپے کسی مسلمان سے زائد لئے گئے او راس کا مطالہ صحیح او ل لے لیا اور ان دس روپوں کے عوض مسلم یا مشرك کو سیربھر گیہوں یہ کہہ کر دے دئے کہ ہم یہ گیہوں اتنے کو فروخت کرتے ہیں اور اس نے بخوشی لے لئے تو یہ جائز ہے؟ اگریہ جائز نہیں تو کیا صورت ہے کہ مال مشترك سے منتفع ہوں؟
الجواب:
(۱)یہاں کے مشرکین کے ساتھ یہ صورت جائز ہے مسلمان کے ساتھ حرام ہے کہ یہ قرض سے نفع لینا ہے،اور حدیث میں ہے:
|
کل قرض جرمنفعۃ فہو ربا [1]۔ |
قرض کے ذریعہ جو نفع حاصل کیا جائے وہ سو د ہے۔ |
خلاصہ میں ہے:
|
القرض بالشرط حرام والشرط لغو بان یقرض علی ان یکتبہ بہ الی بلد کذا لیوفی دینہ [2] اھ کذا عــــــہ فی الدرالمختار [3] واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
قرض کے ساتھ شرط لگانا حرام ہے اور شرط لغو قرار پائے گی، مثلا یوں کہ اس شرط پر قرض دوں گاکہ مجھے لکھ دے کہ قرضہ فلاں شہر سے وصول کرلوں اھ درمختار میں یوں ہے۔والله تعالٰی اعلم۔ |
عــــــہ: فی الاصل درمختار میں ہے والمراد ان عبارۃ الخلاصۃ فی الدرالمختار عبدالمنان الاعظمی ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع