30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ۵۸ تا ۶۱: از پنڈول بزرگ ڈاکخانہ رائے پور ضلع مظفر پور مرسلہ نعمت علی خان ۱۴ ربیع الاول ۱۳۲۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ:
(۱)کہ مالك کافر ہو یا مسلمان،رعایا اس کو بعض زمین کی مال گزاری دے اور بعض کی نہیں،اس کے لئے کیا حکم ہے۔آیا وہ رعایا عندالله وعندالرسول ماخوذ ہوگا یا نہیں؟
(۲)جس زمین کی رعایا مال گزاری دیتی ہے اس میں درخت لگایا،اب اس درخت کے فروخت کرتے وقت مالك اس کی قیمت کا چوتھائی حصہ مانگتاہے۔نہ دینے پر الله ورسول کے نزدیك ماخوذ تو نہیں ؟
(۳)کسی کھیت کے قریب مالك کی زمین غیر آباد ہے۔رعایا نے اپنی زمین کے ساتھ اس غیر آباد زمین کو آبا کرلیا،تویہ جائز ہے یانہیں؟
(۴)ایك شخص کی زمین مثلا ۴ کٹھا ہے سروے ناپ نے غیر کی زمین لے کر ۵ کٹھا لکھ دیا ہے اب اس زمین کو وہ شخص اپنے تصرف میں لاسکتا ہے یانہیں؟ اگر تصرف میں لائے تو عندالله ماخوذ ہوگایانہیں؟
الجواب:
(۱)جو مالگزاری مقرر ہوئی اسی کا نہ ادا کرنا ظلم وحرام ہے اگر چہ زمین والا کافر ہو۔
|
قال اﷲ تعالٰی " یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَوْفُوۡا بِالْعُقُوۡدِ ۬ؕ "[1]۔ |
الله تعالٰی نے فرمایا:اے ایمان والو! عقود کو پورا کرو۔(ت) |
(۲)مالك زمین کا اس درخت میں کچھ حق نہیں،اس کا مانگنا ظلم ہے۔
(۳)جائز ہے جبکہ مالك کو لگان دے یا وہ معاف کردے۔
(۴)اگر وہ کٹھا اس دوسرے کی ملك ہے تو بے اس کی اجازت کے غصب وحرام ہے۔اور اگر وہ بھی کاشتکار ہے اور اس کے پٹے کی میعاد ابھی باقی ہے تو بےاس کی اجازت کے ناجائز ہے لانہ ان لم یملك رقبتہا فقد ملك منفعتہا(اگرچہ اس کے رقبے کا مالك نہیں تو وہ اس کے نفع کا مالك ہے۔ت)اور اگر یہ بھی نہیں تو سابقاً یالاحقاً اجازت زمیندار درکارہے۔والله تعالٰی اعلم
مسئلہ ۶۲ تا ۶۵: مسئولہ مولوی محمد رضاخاں سلمہ ۲۳ جمادی الآخرہ ۱۳۳۳ھ
(۱)زید سے اس کی رعایا نے جس میں مسلم ومشرك دونوں ہیں بیس روپے ایك سال کے واسطے قرض مانگے اور لگان کھاتے کا جو قرض چاہ رہا ہے بیس روپے ہے۔اس نے کہا کہ بیس روپے تم کو بلا سودی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع