30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نے ادا نہ کیا تو بنالش گورنمنٹ زمیندار کو بذریعہ ڈگری کاشتکار سے وصول کرا دے گا،اور اراضیوں کو بھی واپس کرادے گا،اگر کاشتکار بعد ڈگری زمیندار کے مال گزاری کچہری میں داخل کردیا،یا زمیندار کو دے کر رسید حاصل کیا تو پھر کاشت کار ان اراضیوں سے بے دخل نہ ہوگا بدستور قائم رہے گا،ایسی حالت میں کاشتکار کو کاشتکار شکمی سے نفع لینا شرعاجائز ہے یانہیں؟ اور کاشتکار جو خود کاشت کرتاہے اس کی پیداوار سے کھانا جائز ہے یانہیں؟ اگر زمیندار کاشت کار کو زبردستی بے دخل کرے تو کچہری میں استغاثہ کرنے کا حق شرعا پہنچتاہے یانہیں؟
الجواب:
پٹہ دوامی شرع میں کوئی عقد لازم نہیں۔ہر سال تمام پر وہ عقد ختم ہوتا اور طرفین کی رضا سے نیا شروع ہوتاہے۔ہر سال ختم ہونے پر شریعت مطہرہ کے نزدیك طرفین کو اختیار ہے کہ اس عقد سے باز رہیں،مملوك زمین مدت گزرنے سے شریعت کے حکم میں عقد لازم نہیں ہوتا یہ قانونی بات ہے شرعی حکم نہیں،اگر رضائے زمیندار ہے تو جب تك بھی ہے کاشت کار اس میں کاشت کرسکتاہے۔اور دوسروں کو ذیلی بھی بناسکتاہے۔مگر زرلگان جتنا خود ادا کرتا ہے اس سے زیادہ دوسرے سے نہیں لے سکتا،اگر لے گا مال خبیث ہوگا،مگر تین صورتوں میں،ایك یہ کہ لگان کی جنس بدل دے مثلا زمیندار سے روپے ٹھہرے ہیں، یہ ذیلی سے سونا یا نوٹ ٹھہرا ئے یا اس زمین میں کوئی مالیت کی چیز مثل کنویں کے اضافہ کرے یا اس زمین کے ساتھ دوسری زمین ملاکر مجموع کو ذیلی کاشت میں دے،مثلا ڈھائی روپے بیگھہ پر اس سےلی ہے۔یہ ایك بیگھہ زمین اس میں اور شامل کرکے مجموع ۲۱ بیگھہ بلاتفصیل ذیلی کو ایك سوپانچ روپے پردے،یہ صورتیں جائز ہیں،اور اگر زمیندار کی رضامندی نہ ہو اور وہ اس سے زمین چھوڑ دینے کو کہے اوریہ موروثیت کے دباؤ سے جبراً نہ چھوڑے تو شریعت کے نزدیك گنہ گار ہوگا،اوراس میں جوتنا اس کو ناجائز،جو ناج پیدا ہوگا خباثت سے خالی نہ ہوگا،اور ذیلی کو دے گا تو وہ روپیہ بھی اس کے لئے ناجائز ہوگا اور اسے حکم ہوگا کہ زمیندار کو دے دے یا فقیروں پر تصدق کرے اور اول اولٰی ہے۔جو شخص ایك مسلمان ہونے کی حیثیت سے حکم شریعت پر عمل کرنا چاہے،تو حکم یہ ہے ورنہ وہ جانے اور اس کا کام،والله تعالٰی اعلم۔
|
اللہم ارزقنا حسنا واسعا بحق مولانا محمد النبی الامی نبی الانبیاء والمرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ و اٰلہ وصحبہ اجمعین۔ |
اے الله ! ہمیں وسیع نیکی عطا فرما حضور نبی المرسلین ہمارے آقا محمد النبی الامی صلی الله تعالٰی علیہ والہ وصحبہ اجمعین کے وسیلہ سے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع