دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 20 | فتاوی رضویہ جلد ۲۰

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۲۰

جائز نہیں کہ پچاس من کی جگہ پچپن من خود لے اور پینتالیس من زمیندار کو دے،اور اگر اسی من پیدا ہو تو زمیندار کا حق صرف چالیس من ہے پانچ من زیادہ لینا اسے حرام ہے۔ورنہ مسلمان کاشتکار کے حق میں ماخوذ رہے گااس کی باطل منظوری کہ برخلاف مقتضائے عقد وبے اذن شرع ہے۔کچھ معتبر نہیں،ہدایہ میں ہے:

من اشتری زیتا علی ان یزنہ بظرفہ،فیطرح عنہ مکان کل ظرف خمسین رطلا،فہو فاسد وان اشتری علی ان یطرح بوزن الظرف جاز۔لان الشرط الاول لا یقتضیہ العقد،والثانی یقتضیہ [1]۔

اگر کسی نے اس شرط پر زیتون خریدا کہ میں اپنے پیمانہ سے ناپ کروں گا اور اس ہر پیمانہ پر پچاس رطل کاٹوں گا،تویہ عقد باطل ہے۔اور اگر اس شرط پر خریدا کہ پیمانہ کے وزن برابر شمار ہوگا تو عقد جائز ہوگا کیونکہ پہلی شرط عقد سے لاتعلق ہے جبکہ دوسری شرط عقد کے موافق ہے۔(ت)

ہاں ہندو کاشتکار سے اس کی مرضی ومنظوری کی بناء پر اگر ایسے زیادہ مل جائے تو حرج نہیں،

لجواز ان یاخذ منہم بغیر غدر ولو بعقد ان وقع بین مسلمین کان فاسدا کما بیناہ فی بیوع فتاوٰنا، واﷲ تعالٰی اعلم۔

کیونکہ ہندوؤں سے غدر کے بغیر جو ملے لینا جائز ہے اگرچہ وہ ایسے عقد کے ذریعہ ملے جو مسلمانوں میں ہو تو فاسد قرار پائے جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوٰی کے بیوع میں بیان کیا ہے۔والله تعالٰی اعلم۔(ت)

مسئلہ ۵۷:                              از بنارس گرانٹ بازار مسجد نواب ٹونك مرسلہ محمد شفیع صاحب      ۴ رجب المرجب ۱۳۳۶ھ

ایك زمیندار نے کاشت کار کو بخوشی ورضامندی اپنی بیس بیگھہ اراضی کا پٹہ دوامی لکھ دیا اس شرط پر کہ فی بیگھہ اڑھائی روپے لگان جس کا جملہ پچاس روپیہ ہوتاہے۔اس قدر مالگزاری سال بسال ادا کیا کرو،اور ان اراضی کو چاہے خود کاشت کرو یا دوسروں سے کاشت کراؤ،مگر مال گزاری اس کی حسب تحریر مندرجہ تم سے ادا کریں گے،اگر قسط پر ادا نہ کروگے تو بنالش حق ادا کرنے کا ہم زمیندار کو ہوگا۔اب کاشتکار ان اراضی کو خودہی کاشت کرتاہے،ا ور دوسروں سے بھی کاشت کراتاہے۔اور جب دوسرے کاشتکار کے ساتھ بندوبست کرتاہے تو فی بیگھہ پانچ روپے لیتاہے اور جب بارہ برس گزر گیا تو وہ اراضی انگریزی کاغذات میں قانونا موروثی لکھی گئی،یعنی اب ان اراضیوں کو زمیندار زبردستی بے دخل کرنے کا مستحق نہیں،اگر بخوشی ورضامندی اپنی کاشت کار واپس کردے تو زمیندار واپس کرسکتا ہے،یا اگر مال گزاری کا شتکار


 

 



[1] الہدایہ کتاب البیوع باب البیع الفاسد مطبع یوسفی لکھنؤ ۳/ ۶۱

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن