30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سے بیع وہبہ وغیرہ کسی عقد صحیح شرعی سے ملك حاصل کی وہ زمیندار اس زمین کا شرعاً مالك ہے اب یہ زمین جو ایك کاشتکار نے دوسرے کے ہاتھ بیع کی اس بیع سے اگر وہ خریدنے والا کاشتکار اس زمین کا مالك مستقل نہیں سمجھا جاتا بلکہ زمیندار کو نذرانہ دینے کے بعد بھی کاشت کارہی سمجھا جاتاہے تو یہ بیع محض باطل ہے۔
کاشت کار اول نے جو ثمن کاشتکار دوم سے لیا وہ اس کے لئے ناجائز ہے۔اس پر واجب ہے کہ کاشتکار دوم کو واپس دے،اور یہ نذرانہ کہ زمیندار کو دیا جائے گا کہ سال اول اجرت زمین میں اضافہ تصور کیا جاتا تو زمیندار کو جائز ہوتا،مگر ظاہراً وہ اضافہ نہیں سمجھاجاتا۔بلکہ پہلے کاشتکار کی جگہ دوسرے کو قائم کرنے کی رشوت تو یہ زمیندار کو بھی جائز نہیں،ہاں جبکہ کاشتکار اول اس اجارہ سے دوسرے کے لئے دست بردار ہوچکا،اور زمیندار نے دوسرے کو مستاجر قبول کرلیا تو یہ دوسرا شرعاً مستاجر ہوگیا خراج کہ زمیندار اس سے لے گا زمیندار کو حلال ہے۔ظاہراً صورت یہی واقع ہوتی ہوگی،نہ یہ کہ کاشتکار کی بیع بیع شرعی سمجھی جائے اور کاشتکار دوم زمین کا مالك مستقل قرار پائے،اور اگر بالفرض کہیں ایسا ہو اور کاشتکار اول کا دوسرے کے ہاتھ بیچنا بیع فضول ہو اور زمیندار کا اس نذرانہ پر قبول کرنا زر ثمن میں اضافہ اور بیع کی اجازت ہے۔تو وہ روپیہ جو کاشتکار اول کو ملا برضائے زمیندار اس کے لئے حلال ہے۔اور وہ نذرانہ کہ زمیندار نے لے لیا اس کے لئے جائز ہے۔مگر اب جو خراج زمیندار اس کا شت کار دوم سے لے گا یہ حرام وباطل ہے کہ اس تقدیر پر کاشت کار دوم زمین کامالك مستقل ہوگیا،غیر مالك کا مالك سے خراج لینا کیا معنی،والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۵۶: از شہر بریلی محلہ فراشی ٹولہ مرسلہ مقصود علی خاں ۲۷ ذیقعدہ ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ا س مسئلہ میں کہ اگر زمیندار بٹائی کے کھیت کو خواہ وہ کفار کی کاشت میں ہو یا مسلمان کاشتکار ہو،چار اشخاص اہل ہنود یا مسلمان کے بیچ اس بٹائی کے کھیت کی کنکوت کرادے اور کاشت کار جو زمین کی کاشت کرتا ہو اس سے کہہ دے کہ اگر تجھ کو یہ تخمینہ منظور ہو تو اس کو کاٹ لے۔اور زمیندار کا حصہ جو طے پایا ہو دے دینا،اور اگر منظور نہ کرے تو اس تخمینہ کو منسوخ کردے،ایسی صورت میں جبکہ کاشتکار بھی تخمینہ منظور کرلے تو یہ تخمینہ شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ اور اس کی کمی بیشی کا مواخذہ ہوگا یا نہیں؟ جبکہ زمیندار کو اگر اس تخمینہ سے بیشی ہو تو اس کا کچھ خیال یعنی بیشی کا نہ ہو،اور اگر اس تخمینہ سے کم ہو تو زمیندار پرکا شتکار کا مواخذہ جبکہ وہ تخمینہ منظور کرچکا ہو۔ہوگا یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب:
کنکوت باطل ہے،شرعا اس کا کچھ اعتبار نہیں،نوے من تخمینہ ہوا اور زمیندار کاشتکار دونوں نے منظور کرلیا،اور آدھے پر بٹائی ہے۔تو اگر سو من پیدا ہوا زمیندار کے پابچ من کا شتکار پر اور رہے۔اسے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع