30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
راضی نہ ہوتے ہوں اور اسے مضرارض جانتے ہوں تو وہ مستثنٰی رہے گی،اس تقریر پر دربارہ دیہات خلاصہ حکم یہ ہے کہ شریك کو زراعت کرنا مطلقًا جائز اور حصہ شرکاء کا لگان مطلقًا لازم ہے،مگر اس صورت میں کہ دیگر شرکاء نے صراحۃ منع کردیا ہو۔یا کوئی ایسی زراعت کرے جس سے زمین بگڑتی ہو،اور زمیندار اس پر راضی نہ ہوتے ہوں،ان دونوں صورتوں میں نقصان زمین کا تاوان دے گا اگر واقع ہو،اور لگان نہ آئے گا،اور شرکاء نے صراحۃ بلا لگان اجازت دی،تو لگان نہیں،اور زراعت جائزہے ھذا ماعندی والعلم بالحق عند ربی(یہ میری طرف سے ہے اور علم حق میرے رب کے پاس ہے۔ت)والله سبحانہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۵۵: مسئولہ حمد سید علی صاحب طالب العلم از کانپور مسجد حاجی بدنو شطرنجی محل ۱۴ ربیع الاول ۱۳۳۲ھ
ملك بنگالہ میں ظاہرا ملك تین قسم پر منقسم ہے:
اول ملك شاہی
دوم ملك زمینداری
سوم ملك رعیتی
رعایا زمیندار کو خراج دیتے ہیں،اور زمیندار بادشاہ کو،بادشاہی اصل مالك زمین کا ہے،اور بالکل تصرفات کا اختیار رکھتا ہے۔ زمین عــــــہ بادشاہ کے تحت میں زمین کا مالك ہے۔اور زمیندار کے تصرفات بادشاہ کے تصرفات کے تابع ہیں،اور رعیت زمیندار کے تابع ہے،زمیندار رعایا کو زمین ومکان میں جتنے تصرفات کے لئے حکم دیتاہے،اسی کا اس کو اختیار ہوتاہے زیادہ نہیں اس حالت میں کوئی رعیت دوسری رعیت کے پاس اگر اپنی رعیتی زمین کو بیچے تو قیمت کے فی تولہ چارآنہ حساب سے(یا کم و بیش)زمیندار کی سرکارمیں نذرانہ دینا ہوتاہے مثلا زید اگر اپنی رعیتی زمین کو عمرو کے پاس قیمت دو سو روپے بیچے،اور عمرو دو سو روپے دے کر قبالہ کرلے،اور زید وعمرو میں خریدوفروخت ہوگیا،تو اب عمرو زمیندار کے سرکارمیں فی تولہ چار آنہ کے حساب سے دو سو کی نذر پچاس روپے علاوہ خراج کے جب تك ادانہ کرے گا تب تك خریدی ہوئی زمین کی بابت زید کے نام کو خارج کر کے عمرو کے نام کو اپنے دفتر میں ثابت نہ کرے گا،عمرو کو اس زمین پر تصرف کرنے نہ دے گا،پس نذر مذکور علاوہ خراج کے زمیندار کو لینا شرعا جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا بالدلائل(دلائل کے ساتھ بیان کرکے اجر حاصل کیجئے۔ت)
الجواب:
جو زمیندار آباواجداد کے وقت سے وراثۃً مالك زمین چلے آتے ہیں یا جس نے ایسے مالکوں
عــــــہ: فی الاصل کذالك لعلہ"زمیندار"۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع