30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الدار،وھو بعید اوانہما روایتان،ثم نقل عن الخانیۃ ان مسئلۃ الدار کمسئلۃ الارض،وان للغائب ان یسکن مثل ماسکن شریکہ،وان المشائخ استحسنوا ذٰلك و ھکذا روی عن محمد وعلیہ الفتوی [1]۔ |
دار کا فرق قائم کیا جائے اور یہ بعید ہے یا یہ کہا جائے یہ دو مختلف روایتیں ہیں اس کے بعد انھوں نے خانیہ سے نقل کیا کردار کا مسئلہ اور زمین کا مسئلہ ایك ہے کہ مکان میں بھی شریك غائب کو اتنی مدت سکونت کا حق ہے جتنی مدت حاضر شریك سکونت پذیر رہا ہو،اور اس کو مشائخ نے پسند فرمایا ہے اور امام محمد رحمہ الله تعالٰی سے بھی اسی طرح منقول ہے،اوراسی پر فتوٰی ہے۔(ت) |
نیز جامع الفصولین میں بعد عبارت مذکورہ ہے:
|
(فص)سکن دار مشترکۃ بغیبۃ شریکہ لایلزمہ اجر حصتہ ولو معدۃ للاستغلال(الی قولہ)علل فی(ذ)بانہ سکن بتاویل الملك فلا اجر(واقعۃ الفتوی)زرع ارضا بینہ وبین غیرہ ھل لشریکہ ان یطالبہ بربع او ثلث بحصۃ نفسہ کما ھو عرف ذٰلك الموضع، اجیب بانہ لایملك ذٰلك یغرمہ نقصان نصیبہ فی الارض لو انقصت [2]۔ |
(فص)ایك شریك مشترکہ مکان میں دوسرے کی غیر موجودگی میں سکونت پذیر رہا تو اس پر کوئی اجرت لازم نہ ہوگی اگرچہ مکان کرایہ داری کے لئے تیار کیا ہو،ان کا بیان اس قول تك کہ(ذ)میں اس کی علت یہ بیان کی گئی کہ وہ ملکیت کی تاویل پر سکونت پذیر ہوا ہے تو اجرت لازم نہ ہوئی،واقعۃ الفتوٰی میں ہے کہ اپنی اور غیر کی مشترکہ زمین میں کاشت کرے تو کیا دوسرے شریك کو اس سے ربع یاثلث کرے تو کیا دوسرے شریك کو اس سے ربع یاثلث کا اپنے حصہ کے طور پر مطالبہ کا حق ہے جیسا کہ وہاں معروف ہے جواب دیا گیا کہ دوسرے شریك کو یہ حق نہیں ہے،ہاں اگر زمین کو کاشت سے نقصان ہوا تو اس کو اپنے نصف کے نقصان کا ضمان لینا رواہوگا۔(ت) |
اقول:یہ ہے کہ وہ ح کم کہ اس صورت زراعت بے اطلاع کا شرکاء پر کتب میں مذکور ہے،مگر یہ احکام عرف کے ساتھ دائر ہیں،اور یہاں دیہات میں عموما صرف دئر وسائریہ ہے کہ زمین کا اجارہ پراٹھنا ہی منفعت جانتے ہیں اور اس کا پڑا رہنا ہی نقصان سمجھتے ہیں کہ وہ صرف معدللاجارہوتے ہیں اس کے بعد اس پر کوئی نظر نہیں ہوتی کہ زراعت اس کے لئے نفع ہے یا ترک،تو یہاں یہ صورت صورت اولٰی یعنی اذن دلالۃ میں منحصر ہے،اور بوجہ اعداد اجر لازم،مگر کوئی خاص زراعت ایسی فرض کی جائے کہ زمیندار اس پر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع