30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فی نصیب شریکہ(مز)وعن مز رحمہ اﷲ تعالٰی، لو غاب احدھما فلشریکہ ان یزرع نصف الارض،ولو اراد الزراعۃ فی العام الثانی زرع النصف الذی کان زرعہ،ویفتی بانہ لو علم ان الزرع ینفع الارض ولاینقصہا فلہ ان یزرع کلہا،ولو حضرا الغائب فلہ ان ینتفع بکل الارض مثل تلك المدۃ، لرضا الغائب فی مثلہ دلۃ،ولو علم ان الزرع ینقصہا او الترك یتفعہا ویزیدھا قوۃ فلیس للحاضر ان یزرع فیہا شیئا اذا الرضا لم یثبت ھنالك کذا، (قفظ)[1] ۔ |
بشرطیکہ کاشت سے زمین کو نقصان ہو کیونکہ وہ اپنے شریك کے نصف کا غاصب ہے(مز)اور مز رحمۃ الله تعالٰی سے مروی ہے کہ اگر ایك شریك غائب ہو تو دوسرے شریك کو نصف زمین کاشت کرنے کا اختیار ہے۔اور اگر دوسرے سال بھی زراعت کرنا چاہے تو اسی حصہ کو کاشت کرے،اور فتوٰی یہ ہے کہ اگر معلوم ہو کہ زراعت زمین کے مفید ہے نقصان دہ نہیں ہے تو تمام زمین کو کاشت کرے اور غائب شریك آجائے تو اس کو حق ہوگا کہ وہ بھی اتنی ہی مدت کل زمین کو اپنے کاشت کرے یہ ا س لئے کہ مفید ہونے کی صورت میں غائب کی دلالۃ رضا ہے۔اور اگر معلوم ہو کہ کاشت زمین کے لئے نقصان دہ ہے۔یاترك زراعت مفید ہے اور زمین کے لئے مزید قوت کا بعث ہے تو پھر حاضر شریك کو کوئی چیز کاشت کرنے کی اجازت نہیں ہوگی،کیونکہ نقصان کی صورت میں دوسرے شریك کی رضا ثابت نہیں ہے۔یوں"قفظ"میں ہے۔ (ت) |
ردالمحتار کتاب الغصب میں ہے:
|
نقل(ای فی تنویر البصار)اولا عن العمادیۃ عن محمد(فذکر ماقدمنا عن الجامع قال)ثم نقل عن"القنیۃ"ان الحاظر لایلزمہ فی المالك المشترك اجر،ولیس للغائب استعمالہ بقدر تلك المدۃ لان المہایاۃ بعد الخصومۃ،قال وبینہما تدافع الا ان یفرق بین الارض و |
تنویر الابصارمیں اولا عمادیۃ سے بحوالہ امام محمد رحمہ الله تعالٰی نقل کیااور جامع الفصولین سے ہمارے نقل کردہ کے موافق ذکر کیا،پھر انھوں نے قنیہ سے یہ نقل کیا کہ حاضر شریك پر مشترکہ ملکیت میں کوئی اجرت لازم نہیں ہوتی اور غائب کو اتنی مدت زمین کو استعمال کرنے کا اختیار نہیں ہے کہ کیونکہ بدلہ کا لین دین قاضی کے ہاں خصومت کے بعد ہتاہے اور کہا کہ ان دونوں منقولہ عبارتوں میں اختلاف ہے الایہ کہ زمین اور |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع