30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
زراعت سے زمین کو منفعت ہوگی،تو یہ صورت صورت اجازت میں داخل ہے کہ اگر چہ صراحۃ اذن نہ ہوا،مگر بوجہ منفعت دلالۃ اذن ہے۔اس صورت میں بھی حکم یہ لکھتے ہیں کہ لگان دینا نہ آئے گا۔ہاں شرکاء کو یہ اختیار ہوگا کہ اپنے اپنے حصوں کی قدر وہ بھی اتنی اتنی مدت تك اس کی زراعت کرلیں،مثلا دو شریك تھے،ایك ایك ثلث کا ثلث والے نے ایك سال زراعت کی، تو دو ثلث والا دو سال زراعت کرسکتاہے۔اقول:مگر یہ حکم اس صورت کا ہے کہ زمین اجارہ کے لئے معدومعروف نہ ہو کہ اس صورت میں اگرچہ بوجہ منفعت دلالۃ اذن ہے مگر اذن عاریت واجارہ دونوں کو محتمل ہے۔اور عاریت اقل ہے۔تو وہی متعین ہے۔اور اجارہ بلا دلیل ثابت نہیں۔لہذا اجر واجب نہ آیا،مگر جو زمین معدللاستغلال ہے۔جیسے زمین دیہات اس میں ثبوت اذن بحکم اعداد وعہد بروجہ اجارہ ہی مانا جائے گا۔جب تك صراحۃ نفی اجازت یا تصریح عاریت نہ کردیں لان المعروف کالمشروط و ھذا ظاھر جدًا(کیونکہ معروف چیز مشروط کی طرح ہے اور یہ بالکل واضح بات ہے۔ت)تو یہ صورت مثل صورت اولٰی یعنی زراعت باذن صریح شرکاء ہوگی،اور لگان لازم آئے گا،اسے نہ مانئے تو بحال مفنعت اذن دلالۃ ثابت ہونا،اگر وہاں چل سکے جہاں کوئی مزارع موجود نہیں،تو آباد دیہات میں اس کا ثبوت سخت دشوار ہے کہ غیر شخص زراعت کرتا تو شریك دیگر کو اپنے حصہ کی اجرت ملتی،اورشریك نے خود کاشت کی،اور لگان دلائیں نہیں،صرف یہ اختیار دیں کہ اتنی مدت یہ بھی زراعت کرلے،اورممکن کہ یہ زراعت کے لئے آمادہ نہ ہو،اس کے اسباب نہ رکھتا ہو،اس کے کاموں کا متحمل نہ ہو،ان کی فرصت نہ پاتا ہو،تو اس کا حصہ بلا معاوضہ دوسرے کے تصرف میں رہا،اس پر رضا واذن دلالۃ ماننا بہت مشکل ہے۔بخلاف اس صورت کے کہ لگان لازم کریں کہ صریح نفع حاصل ہے یہ دونوں صورتیں علم کی تھیں،اور اگر کچھ نہ معلوم ہو کہ زراعت سے زمین کو مضرت پہنچے گی یا منفعت،اس کا حکم نہیں لکھتے،اقول:وہ صورت مضرت کے حکم میں ہے کہ دلالۃ ثبوت اذن بوجہ علم منفعت تھا جب یہ نہیں وہ نہیں،تو نہ ہوا مگر مطلقًا بلااذن تصرف،اوریہی غصب ہے۔
|
وذٰلك لان الاصل فی التصرف فیما فیہ ملك لغیرہ الحظر الاباذنہ ولودلالۃ ولم یوجد ھوولاھی۔ |
اس لئے کہ قاعدہ یہ ہے کہ غیر کی ملك میں تصرف اس کی اجازت کے بغیر ممکن ہے اگر چہ وہ اجازت دلالۃ ہو،جبکہ یہاں کسی طرح اجازت نہیں۔(ت) |
جامع الفصولین فصل ۳۳ بحث"انتفاع بمشترک"میں ہے:
|
یغرم الزارع لشریکہ نقصان نصف الارض لو انتقصت لانہ غاصب |
ایك شریك نے زمین کی کاشت کی تو وہ دوسرے شریك کے نصف حصہ کے نقصان کا ضمان دے گا۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع