30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لان الاتجارۃ من الشریك جائزۃ لعدم الشیوع فی المنافع الحادثۃ اذا کل تحدث علی مسلکہ امالملکہ او للاجارۃ،بخلاف الاجارہ من احد شریکہ،اواجارۃ البعض من غیر الشریك حیث لاتجوز للشیوع کما فی الہدایۃ [1] والدر [2]۔ |
تمام شرکاء کی طر ف سے اجارہ حاصل کرنا جائز ہے کیونکہ اب منافع میں شیوع نہ ہوگا کیونکہ پیدا ہونے والے تمام منافع اس کو اپنی ملکیت کی وجہ یااجارہ کی وجہ سے حاصل ہوں گے بخلاف جبکہ تمام شرکاء میں سے ایك یا بعض سے اجارہ کرے تو ناجائز ہوگا کیونکہ ا ن صورتوں میں شیوع پایاجائے گا،جیسا کہ ہدایہ اور درمختار میں ہے۔(ت) |
اور اگر شرکاء کے خلاف مرضی زراعت کرے گا گنہ گاروغاصب ہوگا،پھر اگر اس کی زراعت سے زمین کو نقصان پہنچا تو حصص کے لئے اس نقصان کا تاوان دے گا،اور اگر کوئی نقصان نہ پہنچا تو کچھ نہ دے گا،اس صور ت میں لگان عائد نہیں ہوسکتا۔
|
لانہا وان کانت معدۃ للاستغلال فالشریك یتصرف فیہا بتاویل الملک،والتصرف بہ بتاویل العقد یمنع الاجر فی المعد بخلاف الوقف ومال الیتیم حیث یجب فیہما مطلقًا کما بینہ فی الدرالمختار[3]ورد المحتار[4]۔ |
کیونکہ اگر چہ وہ زمین کرایہ داری کے لئے تیار رکھی ہے تو شریك کا اس میں تصرف ملکیت کی تاویل سے ہے جبکہ عقد کی تاویل کرایہ داری والی چیز میں اجرت کے لئے مانع ہے بخلاف وقف اور مال یتیم کے،کیونکہ ان میں اجرت لازم ہے۔جیسا کہ درمختاراور ردالمحتارمیں یہ بیان کیا ہے۔(ت) |
اوراگر نہ شرکاء کا صریح اذن تھا نہ ممانعت،بلکہ ان سے بے پوچھے بطور خود اس نے زراعت کی تو اس میں حکم منقول ومنصوص تویہ ہے کہ اگر معلوم ہو کہ زراعت یا اس خاص زراعت سے زمین کو نقصان پہنچے گا،یا زراعت نہ کرنے سے زمین کی طاقت بڑھے گی،تو اس صور ت میں شرکاء سے بے پوچھے اس کا زراعت کرلینا صورت غصب میں داخل ہے،اور حکم وہی ہے کہ نقصان کاتاوان ہے،لگان کچھ نہیں،ا ور اگر معلوم ہے کہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع