30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الکذب حرام [1]۔ |
عین جھوٹ کیونکہ ٰیہ حرام ہے۔(ت) |
ردالمحتارمیں ہے:
|
حیث ابیح التعریض لحاجۃ لایباح لغیرہا،لانہ یوھم الکذب [2]۔ |
جہاں کسی حاجت کی وجہ سے تعریض جائز ہے وہاں بغیر حاجت جائز نہیں،کیونکہ تعریض جھوٹ کا وہم پیدا کرتی ہے۔ (ت) |
ہاں اگر ظلم شدید ایسا ہو کہ قابل برداشت نہیں،ضرر ایسا سخت ہے جس کا مفسدہ کذب کے مفسدہ سے بڑھ کر ہے اور ا س کا دفع بے کذب ناممکن ہو تو بمجبوری اجازت پاسکتاہے لان الضرورات تبیح المحظورات(کیونکہ ضروریات ممنوع چیزوں کو مباح کرتی ہیں۔ت)ردالمحتارمیں منقول:
|
ینبغی ان یقابل مفسدۃ الکذب بالمفسدۃ المترتبۃ علی الصدق فان کانت مفسدۃ الصدق اشد فلہ الکذب،وان بالعکس اوشك حرم[3]۔وقد نقلنا القول فیہ فی فتاوٰنا،واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
جھوٹ کے فساد اور صدق پر مرتب ہونیوالے فسا کا تقابل کیا جانا مناسب ہے اگر صدق پرمرتب فساد شدید ہو تو جھوٹ مباح،اور گر معاملہ بالعکس ہو یا دونوں صورتوں میں شك ہو توپھر کذب حرام ہے فیصلہ کن قول ہم نے اپنے فتاوٰی میں ذکر کیا ہے والله تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ۵۴: ا زکرتولی مرسلہ حکیم رضا حسین خاں سلمہ، ۷ جمادی الآخرۃ۱۳۳۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مشترك گاؤں میںاگر ایك شریك بے اذن دیگر شرکاء خود کاشت کرے،تو جائز ہے یانہیں؟ اور دیگر شرکاء اس سے اپنے حصے کی لگان لیں گے یاکیا؟ بینوا توجروا
الجواب:
زمین مشترك میں ایك شریك کا زراعت کرنا اگر باذن جمیع شرکاء ہے بلاشبہ رواہے،پھر جبکہ وہ زمین گاؤں کی ہے۔اور دیہات کی زمین اجارہ ہی کےلئے ہوتی ہے تو جب تك تصریح نہ ہوجائے کہ لگان نہ لیا جائے گا،شرکاء کے حصے کا اس پر لگان آئے گا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع