30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور یہ ضرور ہے کہ شرعی اجازت سے آگے نہ لے،مثلا سو روپے آتے تھے تو سو یا سو سے کم لے سکتاہے زیادہ جائز نہیں،او ریہ بھی لحاظ رہے کہ شرع مطہر جس طرح بُرے کام سے منع فرماتی ہے یونہی برے نام سے،تو ایسے ذریعہ سے بچے جس میں اگرچہ یہ اپنی نیت کے سبب لیتا آتا،یا ایك شیئ مباح لیتا ہو جس میں اس پر مواخذہ نہیں مگر وہ ظاہری ذریعہ ایساہو جس سے بدنامی ہو،لوگ اسے مرتکب حرام سمجھیں،غیبت کریں،جیسے سود کا نام،تو اس سے بھی بچے اور صبرکرے،والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۵۰ تا ۵۳: از موضع نگلہ ہریر،تحصیل موانہ ڈاکخانہ بہلادور،ضلع میرٹھ مرسلہ سید اکبر علی ۳ شعبان ۱۳۲۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کاشتکار موروثی ہے اور لگان بحساب د و روپیہ فی بیگھ زمیندار کو اداکرتاہے۔اور وہ زمین جو زیر کاشت موروثی زید ہے اصل میں للعہ فی بیگھ کے لگان کی ہے کیونکہ اس اراضی سے ملحقہ اور ہم حیثیت اراضی مبلغ للعہ فی بیگھ لگان پر کاشت کرائی جاری ہے اور دوسرے کاشت کار خوشی سے للعہ فی بیگھ لگان پر کاشت کرتے ہیں زمیندار کا بہت بڑا نقصان ہے اور کاشتکار مذکور زمیندار کے کہنے سے لگان میں اضافہ نہیں کرتا اور کہتاہے کہ شرعا نالش کردو،بعد ہوجانے ڈگری کے لگان زیادہ دوں گا،اور زمیندار خود تو اضافہ نہیں کرسکتا کیونکہ کاشت کار رضامند نہیں،اور کچہری سے بچند وجوہ ہونہیں سکتا۔اس معاملہ میں وکلا سے بہت سے زیادہ تحقیق کرلی گئی ہے اگر کاشت کار لگان اس وقت جبکہ قانون نے اس پر واجب کیا ہے نہ اد ا کرے،اور زمیندار محض اپنے نقصان کی تلافی کی غرض سے لگان کے روپیہ پرسودلگادے اورکہہ دے کہ میں اپنے لگان میں لیتاہوں تو کچھ گناہ نہیں ہے۔اس طریقہ سے کچھ تلافی نقصان ہوجائے گی۔
دوم: یہ کہ اگر زمیندار کچہری میں ایك سچی بات کو چھپائے اور جھوٹی بات کو ظاہر کرے تو اپنے نقصان کی معمولی سی تلافی کرسکتاہے اور اراضی موروثی کا اس کے قبضہ سے نکل جانا بھی ممکن ہے۔اس جھوٹی بات کو ظاہر کرنے سے جو زمیندار محض اپنے نقصان کی تلافی کی غرض سےکرتاہے کوئی گناہ ہوگا یا نہیں؟
سوم: یہ کہ کاشتکار موروثی کا کوئی حق ہے یانہیں؟
چہارم: یہ کہ شریعت مطہرہ کے نزدیك زمیندارکی مالی نقصان کی تلافی مال سےکیونکر ممکن ہے؟ فقط
الجواب:
جواب سوال اول وسوم وچہارم:شرع مطہر کے نزدیك مملوك زمینوں میں جیسی عام دیہات کی زمینیں ہیں کہ زمیندار ان کے مالك ہیں،اصلا کبھی کسی طرح حق موروثی حاصل نہیں،شرعًا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع