30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
علی کل،فلفظۃ الملك لامحل لہ ھناکما قدمناعن نفس حاوی الزاھدی عن الاسرار فضلا عن سائر معتمدات الاسفار۔ |
بہر صورت حاوی الزاہدی کا وہاں ملك کو ذکر کرنا بے محل ہے جیسا کہ خود حاوی الزاہدی کی الاسرار سے نقل ہم پہلے ذکر کرچکے ہیں چہ جائیکہ معتمد کتب کو ذکرکیا جائے۔(ت) |
بالجملہ دیہات مملوکہ میں کاشتکار کے لئے کسی مدت میں حق قرار جسے آج کل حق موروثی کہتے ہیں شرعا ہر گز حاصل نہیں ہوتا۔وہ صرف قانونی بات ہے تو اگر بے رضائے زمیندار بدعوی موروثی جبرا قابض ہے،یالگان اس کی مرضی سے کم دے،تو عندالله وہ کاشتکار ضرورظالم وغاصب وگنہگار،ا ورحق العبد میں گرفتار ہے،یہاں اگر چہ قانونی مجبوری زمیندار کو عاجز رکھے مگر روز قیامت الله عزوجل کے حضور کاشتکار کو کوئی عذر نہ ہوگا،باایں ہمہ اگر زمیندار دعوٰی بے دخلی دائر کردے تو کاشتکار کے خرچہ پانے کا مستحق نہیں کہ مدعی کو خرچہ دلانابھی حکم شریعت کے بالکل خلاف ہے اگر چہ مدعی مظلوم ہی ہو،عقود الدریہ میں ہے:
|
سئل فی رجل کفل اٰخر عند زید بدین معلوم ثم طالبہ زید بہ والزمہ بہ لدی القاضی،فطلب زید ان یدفع لہ الرجل قدر ما صرفہ فی کلفۃ الالزام،فدفعہ لہ،ویرید الرجل مطالبۃ زید بماقبضہ من کلفۃ الالزام،فھل لہ ذٰلک،الجواب نعم [1] اھ باختصار و کتب المولی المنقح رحمہ اﷲ تعالٰی ہامشہ لایلزم بکلفۃ الالزام۔ |
ایك مقروض شخص نے دوسرے شخص کو زید کے معلوم قرضہ کا کفیل بنایاپھر زید نے اس کفیل پر قرض کا لزوم بنانے کے لئے اس کفیل کو قاضی کے ہاں طلب کرایا تو قاضی کے ہاں کفیل پر الزام ہوگیا تو اب زید اپنے مقروض شخص سے قاضی کے ہاں الزام کے خرچہ کامطالبہ کرے اور وہ خرچہ زید کو دے دے ا ور اب وہ مقروض شخص زید سےخرچہ کی دی ہوئی رقم کا واپس لینے کے لئے مطالبہ کرے تو کیا اس کو واپس لینے کےلیےمطالبہ کا حق ہے۔الجواب،ہاں حق ہے اھ اس کے حاشیہ پر تنقیح کرنیوالے حضرت نے لکھا کہ الزام کی کاروائی کاخرچہ لازم نہیں کیا جاسکتا۔(ت) |
ہاں اگر زمیندار اس سے کہہ دے کہ آئندہ سے اس زمین پر اتنی لگان تجھے دینی ہوگی،اور کاشتکار نہ اضاہ کرے نہ زمین چھوڑے بلکہ خاموش رہے اور زراعت کئے جائے،تو اس کا وہ سکوت ہی شرعا قبول ٹھہرے گا اور اس دن سے وہی لگان اس پر لازم ہوگی،مگر زمیندار اس سے وصول نہیں کرسکتا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع