30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وانت علی علم ان الشرع یابی الضرر خصوصا والناس علی ھذا،وفی القلع ضرر علیہم وفی الحدیث الشریف عن النبی المختار صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لاضرر و لاضرار فی الاسلام [1] اھ وفی وقف الدر فی المنیۃ، حانوت لرجل فی ارض وقف،فابی صاحبہ ان یستاجر الارض باجر المثل،ان العمارۃ لورفعت تستاجر باکثر مما استاجرہ امربرفع العمارۃ وتوجر لغیرہ، و الاتترك فی یدہ بذٰلك الاجر ومثلہ فی البحر [2]اھ قال الشامی لان فیہ ضرورۃ،بحرعن المحیط،و ظاہر التعلیل ترکہا بیدہ ولوبعد فراغ مدۃ الاجارۃ لانہ لو امر برفعہا لتوجر من غیرہ یلزم ضررہ،و حیث کان یرفع اجرۃ مثلہا لم یوجد ضرر لعلی الوقف، فتترك فی یدہ لعدم الضرر علی الجانبین [3] الخ،و
|
میں حرج بھی نہ ہو،اور آپ کو معلوم ہے کہ شریعت ضرر کو برداشت نہیں کرتی خصوصا جب عوام مبتلا ہوں جبکہ درخت اکھاڑنے میں ضرر ہے۔حدیث شریف میں حضور نبی مختار صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کا ارشاد ہے"اسلام میں ضرر دینا اور ضررمیں مبتلا روانہیں ہے"اھ۔اوردرمختار میں منیہ سے منقول ہے کہ کسی شخص کی وقف زمین میں دکان ہو او وہ دکان والا مثلی اجرت پر آئندہ اجرت پر انکار کرے جبکہ عمارت اٹھادی جائے تو وہ زمین اس کی اجرت سے زیادہ اجارہ پر دی جاسکتی ہے تو ا س مستاجر کو اپنی عمارت اٹھالینے کا پابند کیا جائے اور وہ زمین غیر کو اجارہ پر دی جائے،ورنہ اسی اجرت میں اسی کے قبضہ میں رہنے دی جائے،اس کی مثل بحر میں ہے۔اھ علامہ شامی نے فرمایاکیونکہ ا س میں ضرورت ہے۔محیط سے بحر میں ہے اور علت کا ظاہر بتانا ہے کہ اس کے قبضہ میں رہنے دی جائے اگرچہ مدت اجارہ ختم ہوچکی ہو کیونکہ اگر اس کو عمارت اٹھانے کا پابند کیا او ر غیر کو دی جائے تو اس سے مستاجر کو ضرر ہوگا جبکہ اٹھادینے کے باوجود مثلی اجر ت نہ ملے تو وقف کو نقصان ہے لہذا اسی کے قبضہ میں رہنے دی جائے اس میں دونوں فریقوں کی رعایت ہے الخ اور |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع