30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
شفیع کے ہاتھ مکان نہ بیچ کر غیر شفیع کو دینا جبکہ شفیع کو مکان کی سخت ضرورت ہے اور اس وعدہ پر کہ اس کو مکان دیا جائے گا بیع سے قبل بطور کرایہ دار شفیع کا قبضہ بھی کرادیا۔ |
۱۷۲ |
اور چندہ کرکے متولی کو دیا اور اس نے بلاضرورت زائد قیمت دی تو زیادت فاحش پر متولی گنہگار ہوگا اورمسجد کے نقصان کا متولی کو تاوان دینا پڑے گا۔ |
۱۷۳ |
|
مکان خریدنے والے اجنبی نے مکان مسجد کے لئے خریدا ہے کیونکہ ایك تیسرے آدمی نے ایذائے شفیع کے لئے کہا کہ وہ مکان مسجد پر لے لیا جائے تومیں اپنا مکان مسجد کو دے دوں گا۔ اب ارادہ ہے کہ مکان بہت زائد قیمت پر شفیع کے ہاتھ بیچا جائے،حالانکہ مسجد کو ضرورت مکان کی نہیں،مسجد مقروض ہے اور اس کے دیگر ضروری امور کا انتظام نہیں۔ "سوال" |
۱۷۲ |
بیع کے پہلے خریداری سے انکار سے حق شفعہ باطل نہیں ہوتا۔ |
۱۷۴ |
|
قبل بیع شفیع کا کوئی حق نہیں،مکان کا اس کے پاس کرایہ ہونا،اس کا اس کے خریدنے کا اعلان کرنا،اس کا ضرورتمند ہونا،یا اس کا کسی حصہ دار سے معاہدہ ہوجاناکہ تجھے دوں گا،اسے کوئی ترجیح نہیں دے سکتا۔ |
۱۷۳ |
بعد بیع طلب مواثبت اور طلب اشہاد میں تاخیر سے حق شفعہ باطل ہوجاتاہے۔ |
۱۸۴ |
|
بیع کی خبر پاتے ہی طلب مواثبت اور طلب اشہاد بجالایا تو اسی دام پر جس پر بکا شفعہ حاصل کرسکتاہے۔ |
۱۷۳ |
کتاب القسمۃ |
|
|
اس سے زائد قیمت مانگتے ہیں،اگر اس کا مطلب یہ ہے کہ طلب بجائے بغیر اس مکان کی خریداری پر تیار ہوگیا تو اس کا شفعہ باطل ہوگیا،ایسی صورت میں اس کومکان نہ دینا ظلم نہیں۔ |
۱۷۳ |
کل جائداد صرف چندورثہ میں تقسیم کرنے کا"سوال" |
۱۷۵ |
|
بقیہ باتیں جو سوال میں ذکر ہوئیں زائدہیں اس کا اس مسئلہ سے کوئی تعلق نہیں،مسجد نے مکان کی قیمت زائد دی،اس کی دو صورت ہے،لوگوں نے چندہ سے مکان کا دام ادا کرکے مسجد کو دے دیا،جب تو کوئی گناہ نہ ہوا کہ اصل سے زائد قیمت دینا گناہ نہیں۔ |
۱۷۳ |
ایسی تقسیم باطل ہے۔ پنچ کا فیصلہ صرف انھیں لوگوں کے حق میں نافذ ہوگا جنھوں نے انھیں بنایا،دوسروں کے حق میں انھیں تصرف کا اختیارنہیں۔ |
۱۷۵ |
|
|
|
قاضی نے اگر ایسا فیصلہ اس گواہی کے بعد کیا کہ مزید کوئی وارث نہیں،تو وارث ظاہر ہونے کے بعد تقسیم توڑ دی جائے گی ۔ |
۱۷۶ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع