30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
انما فسرناہ بکذا،لان قیمۃ المقلوع ازید من قیمۃ المامور بقلعہ،لکون المؤنۃ مصروفۃ للقلع کذا فی الکفایۃ [1] اھ۔ اقول:وبماذکر نا تبین ان ماوقع فی حاوی الزاھدی من قولہ،یثبت حتی القرار فی ثلثین سنۃفی الارض السلطانیۃ والملک،وفی الوقف فی ثلث سنین[2] الخ فہو و زان حملہ فی العقود الدریۃ علی الکردار،حیث قال المراد بہ(ای بحق القرار)الاعیان المتقومۃ لامجرد الامر المعنوی،ویدل علی ذٰلك قولہ فی البزازیۃ لاشفعۃ فی الکرداری ای البناء ویسمی بخرار زم حق االقرارلانہ نقلی [3]اھ مع ان فی ھذا الحمل ایضا کلاما عندی لان حق القراربمعنی الکردار لایتوقف علی مرور الاعصار،وانما مبناہ علی النظر للجانبین و رفع الضرار،کما تقدم وفی اجارۃ الخیریۃ لہ الاستبقاء حیث لاضرر علی الجہۃ(ا ی جہۃ الوقف) و لزوم الضرر علی الغارس
|
کے حکم ر جو قیمت ہو،ہم نے یہ تفسیر اس لئے کی ہے کہ کبھی کھڑے درختوں کی قیمت اکھاڑنے کے حکم والی قیمت سے زائد ہوتی ہے کیونکہ اکھاڑنے کا خرچہ بھی ان پر پڑتاہے،کفایہ میں یوں ہے۔(ت) اقول:(میں کہتاہوں)ہمارے ذکر کردہ سے واضح ہواکہ حاوی الزاہدی کے اس قول کہ سرکاری اور ملکیتی زمین میں تیس۳۰ سال قبضہ اور قف کی زمین میں تین سالہ قبضہ سے حق القرار ثابت ہوجاتاہے اس میں کلام ہے اس حق القرار کو اگر چہ عقود الدریہ میں کردار پر محمول کیا ہے جہاں انھوں نے کہاہے کہ اس سے یعنی حق القرار سے مرادقیمتی سامان (اعیان) مرا دہے نہ کہ صرف معنوی معاملہ،اس پر اس کا قول کہ بزازیہ میں ہے کہ تعمیر شدہ کرداری میں شفعہ نہیں ہےجس کو خوارزم میں حق القرار کہتے ہیں،کیونکہ یہ منقولہ چیز ہے اھ جبکہ میرے نزدیك اس معنی پر حمل میں بھی کلام ہےکیونکہ حق القرار بمعنی کردار کس مرور زمانہ پر موقوف نہیں ہے اس کی بنیاد تو صرف فریقین کی رعایت اور دفع ضر رپر ہے جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے اور خیریہ کے باب الاجارہ میں ہے مستاجر کو قبضہ باقی رکھنے کااختیار ہے جب وقف کی جہت کو ضررنہ ہو اور پودے لگانے پر لزوم ضرر |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع