30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الغراس اکثر مبنی علی مسألۃ غصب الساحۃ بالمھملۃ وفیہا معترك عظیم،والارجع عندنا انہ لایتملك الارض کرھا وان کانت قیمۃ بنائہ وغرسہ اکثر،لقول صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لیس لعرق ظالم حق [1]۔ |
زمین کی قیمت سے زائد ہونے کو مالك کے اختیار سے مستثنٰی کرنا یہ خالی زمین کو غصب کرنے پر مبنی ہے اس میں عظیم معرکہ آرائی ہے جبکہ ہمارے ہاں ارجح یہ ہے کہ مستاجر زمین کا جبراً مالك نہیں بن سکتا اگر چہ عمارت اور پودوں کی قیمت زمین سے زائد ہو کیونکہ حضور صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ظالمانہ دخل کا کوئی حق نہیں ہے۔(ت) |
درمختارمیں ہے:
|
فان مضت المدۃ فلعہا وسلمہا فارغۃ الا ان یغرم لہ الموجر قیمۃ البناء و الغرس مقلوعا ویتملکہ،قال فی البحر،افاد انہ لایلزمہ القلع ولو رضی المؤجر بدفع القیمۃ،لکن ان کانت تنقص یتملکہا جبرا علی المستاجر ولافبر ضاہ [2]۔ |
اگر مدت اجارہ ختم ہوگئی ہو تو مستاجر اپنے دخل کو ختم کرتے ہوئے درختوں کو اکھاڑ کر خالی زمین مالك کو واپس کرے مگر یہ کہ اگر مالك اکھڑے درختوں اور تعمیر کی قیمت کوبرداشت کرکے خود ان کا مالك بن جائے،بحرمیں فرمایا کہ اس سے یہ فائدہ ہوا کہ مستاجر کو درخت اکھاڑنا لازم نہیں اگر ملك قیمت دینے کو تیارہو لیکن اگر درخت اکھاڑنے سے زمین کو نقصان ہو تو پھر مالك جبرا درخت لے سکے گا ورنہ مستاجر کی رضا سے درختوں کا مالك بن سکے گا(ت) |
ردالمحتارمیں ہے:
|
قولہ مقلوعا فی الشرنبلالیۃ،ای مامورا مالکہما بقلعہما و |
ماتن کا قول"اکھڑے ہوئے درختوں کی قیمت"شرنبلالی نے فرمایا:یعنی درختوں اور تعمیر کے مالك کو اکھاڑنے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع