دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 20 | فتاوی رضویہ جلد ۲۰

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۲۰

 

 

 

 

 

کتاب القسمۃ

(تقسیم کا بیان)

 

مسئلہ ۴۴:                              ا ز پیلی بھیت                             یکم جمادی الاولٰی ۱۳۰۶ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسمی اکبر نے انتقال کیا،چار پسر دوست محمد،حفیظ اللہ،کریم اللہ،رحمت اللہ،دو دخترجواں،موتی وارث ہوئے،کریم اﷲ نے وفات پائی،اس کا بیٹا ننھو ہے۔رحمت اﷲ فوت ہوا،اس کی بیٹیاں اعجوبہ ومحمدی ہیں، دوست محمد،حفیظ اللہ،ننھو نے جائداد متروکہ مشترکہ کی تقسیم کے لئے زید کوپنچ مقر رکیا مگر جوان موتٰی عجوبہ،محمدی اس پنچایت میں اصلا شامل نہ تھیں،پنچ نے تمام جائداد متروکہ جس میں ان سب کے حصص شرعیہ تھے،صرف انھیں تین وارثوں پر جنھوں نے اسے پنچ کیا تھا تقسیم کردی،اور پنچایت نامہ میں لکھ دیا کہ"حصہ شرعی دختران اکبر اور دختران رحمت اﷲ کے ہر سہ فریق بقدر رسدی ذمہ دار ودیندار رہیں گے،وہ چاروں عورتیں اس تقسیم پر راضی نہیں،اس صورت میں یہ پنچایت صحیح و نافذ ہے یانہیں؟ اور پنچ نے جو تقسیم کی وہ بحال رہے گی یا توڑ دی جائے گی؟ بینوا توجروا

الجواب:

یہ پنچایت محض مہمل اور تقسیم بیہودہ ومختل ہے۔پنچ کوباقی وارثوں کے حصص میں تصرف کا کس نے اختیار دیا تھا،حکم پنچ کا صرف انھیں تك ہوتاہے جو اسے پنچ کریں،باقی کسی پر کچھ ولایت نہیں رکھتا،ہدایہ میں ہے:

حکمہ لایلزمہ لعدم التحکیم منہ [1]۔

اس کا حکم لازم نہ ہوگا کیونکہ اس کی طرف سے تحکیم نہیں ہے۔(ت)

 


 

 



[1] الہدایۃ کتاب ادب القاضی کتاب التحکیم مطبع یوسفی لکھنؤ ۳/ ۱۴۳

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن