30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بکرنے گواہان طلب مواثبت واشہاد روبروئے عدالت پیش کیں،گواہان بکر کا بیان ہے کہ جس وقت مخبر نے حال مبیع کا ظاہر کیا تو بکر گھبراکر کھڑا ہوگیا،اور فورا اس نے یہ کہا کہ جس قیمت واقعی کو نصف باغی بیع ہوا ہے اسی قیمت کو میں نے بحق شفعہ خود لیا، پس یہ امر یعنی بیھٹے سے کھڑے ہوکر طلب مواثبت کرنا داخل تاخیر ہے یانہیں،دوم یہ کہ بعد طلب مواثبت بکر کا چھڑی لینے گھر میں جانااور گھر میں سے فورا واپس آکر مشتری کے مکان پر جانا اور وہاں طلب اشہاد بجالانا شرعا تاخیر میں داخل ہے یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب:
جہاں طلب اشہاد کو جانا تھا اس کے بعد اور شفیع کی حالت پرنظر کی جاجائے،اگر یہ اتنی دور بے عصا کے نہ جاسکتا تھا تو چھڑی لینے کے لئے گھر میں جانا اور س کے ملنے پر فورًا آکر رواناہونا تاخیر نہیں،اگر چہ اس کی تلاش میں دس بیس منٹ ہوگئے ہوں کہ امورضرورت شرعا مستثنٰی ہیں،اور اگر تلاش دیر کے بعد کی یا مل جانے کے بعد بلاضرورت دیرلگائی یا سرے سے عصا کی حاجت ہی نہ تھی،صرف حسب عادت ہاتھ لینے کے لئے یہ دیر کی تو یہ ضرورتاخیر ہے اور داخل عذر نہیں،یہ طلب اشہاد میں تھا،رہا طلب مواثبت سے پہلے اس کا کھڑا ہوجانا اور بعد قیام الفاظ ملك اداکرنا،وہ مطلقًا مسقط شفعہ وقاطع فورہے۔بلکہ فور درکنار قیام سے مجلس بھی بدل گئی،تو روایت ضعیفہ پر بھی شفعہ کی گنجائش نہ رہی،ہندیہ میں ہے :
|
طلب الاشہاد مقدربالتمکن من الاشہاد فمتی تمکن من الاشہاد عند حضرۃ واحد من ھذہ الاشیاء ولم یطلب الاشہاد بطلت شفعتہ نفیا للضرر عن المشتری، کذا فی محیط السرخسی [1]۔ |
طلب اشہاد کسی ایك کے پاس گواہ بنانے کی قدرت پر موقوف ہے تو جب کسی ایك کے پاس اس کو گواہ بنانے کی قدرت ہوئی اور اس نے طلب نہ کی تو اس کا شفعہ باطل ہوجائے گا تاکہ مشتری کے ضرر کو ختم کیا جائے،محیط سرخسی میں ایسے ہی ہے۔(ت) |
اسی میں ہے:
|
الشفیع اذا علم فی اللیل ولم یقدر علی الخروج و الاشہاد الی کذا فی الحاوی فی الفتاوی [2]۔ |
جب شفیع کو خریداری کا علم رات کو ہو اور جاکر اشہاد کی طلب پر قاد رنہ ہوا الخ حاوی فی الفتاوی میں یوں ہے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع