30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فی معلوم [1]۔ |
صحیح ہوتاہے۔(ت) |
یہ غیبت دار ومحضر احدالعاقدین میں ہے۔ غایۃ البیان علامہ اتقائی میں مختصر امام کرخی رحمہ الله تعالی سے ہے :
|
یسمی الدار والارض والموضع ویحدو حتی یستوثق لنفسہ [2]۔ |
دار،زمین اور موضع کانام لے کر ذکر کرے اور اس کی حدود کو بیان کرے تاکہ اپنے لئے معاملہ کو پختہ کرلے۔(ت) |
اسی میں ہے:
|
قال القدوری فی شرح،وانما شرط ابویوسف رحمہ اﷲ تعالٰی تسمیۃ المبیع والتحدید،لان المطالبۃ لا تصح الا فی معلوم،فاذا اشہد علی الطلب ولم یبین المطلوب لم یکن للمطالبۃ اختصاص بمبیع دون مبیع،ولایتعلق بہا حکم [3]۔ |
قدوری نے اپنی شرح میں ذکر کیا ہے کہ امام ابویوسف رحمہ الله تعالٰی نے بیع کانام اور اس کی حدود کو ذکرکرنا شرط قرار دیا ہے کیونکہ مطالبہ معلوم چیز میں ہی صحیح ہوتاہے تو جب اس نے طلب اشہاد کیا اور مطلوب کو نہ بیان کیا تو پھر مطالبہ کا اختصاص کسی ایك مبیع سے نہ ہوسکے گا اور نہ ہی حکم کا تعلق اس سے ہوگا(ت) |
یہاں جبکہ دار مشفوعہ سامنےحاضر تھی،اشارہ ضرور تھا،اس کا ذکر مسل بھرمیں کہیں نہیں،لہذا حکم وہی چاہئے جوامام قدوری نے فرمایا:لایتعلق بہا حکم(نہ ہی حکم کا تعلق اس سے ہوگا۔ت)ایسی مہمل طلب پر کوئی حکم نہیں ہوسکتا،دوسرا فتوٰی مدخلہ مدعی ملاحظہ ہوا،وہ صحیح نہیں اور اس پر کلام اسی فتوٰی فقیر سے واضح،والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۹: از ریاست رامپور محلہ مسئولہ جناب غلام حبیب خاں صاحب عرف بدھن میاں صاحب ۲۹ ذی الحجہ ۱۳۳۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس باب میں کہ زید وبکر ایك باغ میں نصف نصف کے شریك تھے،زید نے اپنا حصہ نصفی بدست خالد بیع کیا،بکر بحق شفعہ دعویدار ہوا اور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع