30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الدار ویقول ان فلانا اشتری ھذا الدار اویحضر المشتری ویقول ھذا مشتری من فلان داراالتری حدودہا کذا الخ اوالبائع ویقول ھذا باع من فلان دارا التی حدودھا کذا الخ [1]۔ |
کے پاس حاضر ہوکر کہے کہ تحقیق فلاں نے یہ مکان خریدا ہے یا مشتری کے پاس حاضر ہوکر کہے کہ اس نے فلاں حدود اربعہ والا مکان خریدا ہے یا بائع کے پاس حاضر ہوکر کہے اس نے فلاں حدود ولا مکان فروخت کیا ہے۔الخ(ت) |
فتاوٰی قاضیخاں میں ہے:
|
صورۃ طلب الاشہاد ان یقول الشفیع للمشتری حین لقیہ اطلب منك الشفعۃ فی دار اشتریتہا من فلان التی احد حدودھا کذا والثانی کذا الثالث کذاوالرابع کذا(الی قولہ)ولابد ان یبین انہ شفیع بالشرکۃ او بالجوار،اوفی الحقوق،ویبین الحدود لتصیر الدار معلومۃ [2]۔ |
طلب اشہاد کی صورت یہ ہے کہ شفیع جب مشتری کے پا س آئے تو کہے میں تجھ سے اس مکان کا شفعہ طلب کرتاہوں جو تو نے فلاں شخص سے خریدا ہے۔اور جس کی حدود میں سے ایك یہ ہے دوسری یہ اور تیسری یہ،اور چوتھی یہ ہے(اس کے قول)اور ضروری ہے کہ وہ بیان کرے کہ میں شرکت کی بناء پر شفیع ہوں یا پڑوس کی بنا پر شفیع ہوں یا حقوق میں شرکت کی بناء پر شفیع ہوں،اور حدود کو بیان کرے تاکہ مکان متعین ہو جائے۔(ت) |
ہدایہ میں ہے:
|
صورۃ ھذا الطلب،ان یقول ان فلانا اشتری ھذا الدار [3] الخ، |
اس طلب اشہاد کی صور ت یہ ہے کہ فلاں نے یہ مکان خریدا ہے الخ(ت) |
یہ محضر دار میں ہے،پھر فرمایا:
|
وعن ابی یوسف یشترط تسمیۃ المبیع وتجدیدہ، لان المطالبۃ لاتصح الا |
اور امام ابویوسف رحمۃ الله تعالٰی علیہ سے مروی ہے کہ مبیع کانام اور اس کی حدود کا ذکر شرط قراردیا گیا ہے کیونکہ مطالبہ صرف معلوم چیز میں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع