30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اور خریدوں گا،کے معنی مجازی مراد لیں کہ بذریعہ شفعہ لے لوں گا،تو"لے لوں گا"کے الفاظ طلب فی المآل پر دلالت کرتے ہیں لہذا شفعہ باطل۔ |
۱۴۸ |
شفیع کے گواہوں پر تنقید، |
۱۵۴ |
|
مشتریہ دار مشفوع بہاکے منکر ملکیت،اورتسلیم شفعہ کی مدعی ہے۔ دونوں نے گواہ پیش کئے۔ شرعی حکم کیا ہوگا۔ |
۱۴۹ |
حاکم کے فیصلہ کی تائید، |
۱۵۵ |
|
دار مشفوع بہا کی ملکیت کے گواہوں نے اگر گواہی اس طرح نہ دی ہو کہ دار مشفوع بہا پر ملکیت بیع سے پہلے اور مستمرالی الآن ہے۔ تو یہ گواہی نامقبول اور شفعہ ساقط ہے۔ |
۱۴۹ |
اسی زمین سے متعلق دوسرے مقدمہ محمد شاہ بنام شہنشاہی بیگم مشتریہ کی مسل عدالت پر حکم شرع کا"سوال" |
۱۵۶ |
|
تسلیم شفعہ کے گواہوں کے الفاظ صحیح ہیں،اگر عادل ہوں تو تسلیم شفعہ ثابت اور شفعہ ساقط اس کے مقابلہ میں عدم تسلیم شفعہ کے گواہ نامقبول کہ وہ عدم کے گواہ ہیں۔ |
۱۵۰ |
اس مقدمہ میں بھی شفیع کے گواہوں پر جرح اور ان کے ناقابل قبول ہونے کا حکم،اور مدعیہ سے قسم لینے کی تصریح۔ |
۱۵۶ |
|
تسلیم شفعہ کے بعد خلیط فی نفس المبیع کا حق بھی ساقط ہوجاتاہے۔ |
۱۵۱ |
مدعی علیہا کے گواہوں کے بروجہ مطلوب ہونے کی تصدیق اور شفعہ کے ساقط ہونے کاحکم۔ |
۱۵۶ |
|
مسئلہ مذکورہ بالا دوبارہ کچہری کی پوری کارروائی کے ساتھ "سوال" |
۱۵۱ |
مکان بیع کرکے ثمن معاف کردینے،ایسی بیع میں شفعہ جاری ہونے کا سوال اور بیعنامہ کی نقل۔ |
۱۵۷ |
|
چند الفاظ میں کارروائی کا خلاصہ کہ مقدمہ مذکورہ میں مدعی علیہا کے گواہوں کی ضرورت نہیں تو ان پر تنقید بھی بیکار ہے۔ |
۱۵۱ |
ایسی بیع جائز ہے اور معانی ایجاب و قبول کے بعد ہوئی ہو تو معانی بھی جائز ہے۔ |
۱۵۸ |
|
شفیع کے گواہوں کی ضرورت ہے جو یہ ثابت کریں کہ بیع کے قبل سے اب تك دار مشفوع بہا شفیع کی ملك ہیں یہ نہ ہو تو مدعی علیہا کی قسم وہ قسم سے انکار کرے تو شفعہ ثابت۔ |
۱۵۲ |
شفعہ بہر حال جاری ہوگا اور شفیع کل زر ثمن دے کر مکان لے سکے گا۔ |
۱۵۸ |
|
زیلعی،محیط،ہندیہ سے مسئلہ کی تائید، |
۱۵۲ |
عالمگیری،شامی،قاضی خاں سے مسئلہ کا جزئیہ۔ |
۱۵۸ |
|
صورت مسئولہ میں شفیع کی گواہیاں ناکافی ہیں او رشفیع نے مدعی علیہا سے حلف کا مطالبہ نہیں کیا اس لئے شفعہ ساقط۔ |
۱۵۳ |
|
|
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع