30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ابعدھا وترك الاقرب جاز،فکذا ھذا الا ان یصل الی الاقرب ویذھب الی الابعد فحنیئذ تبطل [1]۔ |
طلب کرے اور قریب والے کو چھوڑ دے،تو جائز ہے تویہ بھی ایسے ہے ہاں اگر قرب پر پہنچ کر ابعد کی طرف جائے تو اس وقت شفعہ باطل ہوجائے گا۔(ت) |
اوریہاں یہی ہوا،بیرون دربھی اشہاد کرسکتا تھا،اور اسے چھوڑ کر اند رگیا،اور پردہ کرایا،اور شہود کولے گیا،اس وقت طلب کی،تو یہ اقرب پر گزر کر ابعد کی طرف جانا ہوا،او ریہ ضرور مبطل شفعہ ہے۔
جوا ب سوال پنجم: بیان مدعی وگواہان مدعی کے ملاحظہ سے جو کچھ نظرفقہی میں واضح ہوتاہے۔ان الفاظ کا ناکافی ہوناہے۔حاضر کی تعیین اشارہ سے ہوتی ہے اور غائب کی تسمیہ سے کہ دار میں ذکر حدودہے۔کتب علماء انھیں احد الوجہین سے مالامال ہیں، اور تصریح ہے کہ مجہول کی طلب صحیح نہیں۔خلاصہ وجیز امام کردری میں ہے:
|
یستحق بطلب وہو نوعان مواثبۃ وقد ذکرہ اشہاد ھو ان یشہد قائلا اطلبہا اوعبارۃ یفہم منہا طلب الدار ویذکر الحدود [2]۔ |
شفعہ کا استحقاق طلب سے ہوتاہے اور طلب دو قسم ہے ایك طلب مواثبت جس کا ذکر انھوں نے کردیا ہے اور دوسری قسم طلب اشہاد ہے،وہ یہ کہ میں شفعہ طلب کررہاہوں،یاکوئی اور عبارت جس سے جس مکان کی طلب سمجھی جائے،کہہ کر گواہ بنائے اور مکان کے حدودبھی ذکر کرے۔(ت) |
محیط سرخسی وفتاوٰی عالمگیریہ میں ہے:
|
انمایصلح طلب الاشہاد بحضرۃ المشتری او البائع والمبیع فیقول عند حضرۃ واحد منہم،ان فلانا اشتری ھذہ الدار و دارا ویذکر حدودھا الاربعۃ[3] الخ۔ |
مشتری یا بائع یا مبیع کے پاس یوں کہے فلاں نے یہ مکان خریدا اور اس کی حدود اربعہ کو ذکر کرے تو طلب درست ہوگی الخ (ت) |
فتاوٰی ذخیرہ ونتائج الافکا رمیں ہے:
|
صورۃ ھذا الطلب ای یحضر الشفیع عند |
اس طلب اشہاد کی صورت یہ ہے کہ شفیع اس مکان |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع