30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
چاہا۔اور اسی کے فعل مذکورہ سے یہ وصف ان کو حاصل ہوا،تو بلاشبہ اس نے دونوں کے لئے تحصیل شہادت کی،اور اسی قدر حقیقت اشہاد ہے،قال اﷲ تعالٰی " وَاَشْہِدُوْۤا اِذَا تَبَایَعْتُمْ۪ "[1]خرید وفروخت کرتے وقت اشہاد کرلو،وقال اﷲ تعالٰی " وَّ اَشْہِدُوۡا ذَوَیۡ عَدْلٍ مِّنۡکُمْ "[2]جب طلاق دو یا رجعت کرو اپنے میں سے دو ثقہ کوگواہ کرلو۔عالم میں کوئی اس کا قائل نہیں کہ عقود وفسوخ میں گواہ کرتے وقت متصرف کا زبان سے یہ کہنا ضرور ہےکہ گواہ ہوجاؤ،بلکہ طلب دوم خواہ اول کسی میں نفس وجود شہود ہی ضرور نہیں،کما نصوا علیہ فی البدائع والخانیۃ والمحیط واشار الیہ فی الہدایۃ وغیرھا(جیسا کہ اس پر بدائع،خانیہ اور محیط کی نصو ص ہیں اور ہدایہ وغیرہ میں اس کی طرف اشارہ ہے۔ت)بلکہ مقصود شرع وہی دو۲باتیں ہیں ایك طلب فوری، ۲دوسری محضر،اور الثلثۃ میں طلب بتعیین،اکثر یہ ہوتاہے کہ شفیع کو خبر بیع وہاں پہنچی ہے کہ عاقدین ومبیع سے کچھ حاضر نہیں، ناچار دو طلبوں کی حاجت ہوئی کہ محضر کا انتظار کرے تو فوری جاتاہے۔اور فقط فور پر قانع ہو توو محضر نہیں، اور جب خبیر عین محضر میں پہنچی تو تعداد طلب کی اصلا حاجت نہیں،طلب واحدہی دونوں کا کام دے گا۔
|
لاجتماع الفور والمحضرمعا والمسئلۃ دوارۃ فی الکتب وقد ذکر نا بعض نصوصہا،ولا تنس ماقدمنا من معنی الاشہاد ومن حقیقۃ طلب الاشہاد کیلا تزل من ظاھر کثیر من العبارات۔ |
فوریت اور حاضری دونوں کے اجتماع کی وجہ سے،جبکہ یہ مسئلہ کتب میں عام دائر ہے اور ہم نے بعض کتب کی نصوص ذکر کردی ہیں اور ہمارا بیان معنی اشہاد اور طلب کی حقیقت کو نہ بھولنا تاکہ تو بہت سی کتب کی ظاہر عبارات سے نہ پھسلے(ت) |
جواب سوال چہارم: صورت مستفسرہ میں ضرور شفعہ باطل ہوجائے گا،اور قریب کہ چھوڑ کر بعید کی طرف جانے سے استناد محض باطل وخرط القتاد،مصرواحد میں اس کا جواز اس صورت میں ہے کہ بعید تك جانے میں قریب پر گزرنہ ہو،اور اگر راہ میں قریب پرگزرااور اسے چھوڑکر بعید کی طرف گیا،قطعا شفعہ باطل ہوجائے گا۔اور یہ ضرور دلیل اعراض ہے۔ محیط،سرخسی، بزازیہ،خانیہ،ہندیہ وغیرہا عامہ کتب میں ہے:
|
لو کان الکل فی مکان حقیقۃ وطلب من |
اگریہ تمام امور برمحل پائے جائیں اور بعید جگہ والے کو |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع