30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بطلان شفعہ ہوگی یا نہیں؟
(۳)گواہوں کے سامنے اگر طلب بروجہ شرعی کرلی او ریہ نہ کہا کہ گواہ ہوجاؤ،تو طلب اشہادمیں کوئی خلل ہے یانہیں؟
(۴)اگر طلب اول بروجہ کافی ایسے طورپر نہ کی کہ طلب اشہاد کے بھی قائم مقام ہوتی،اور پھر کاروائی مذکور ہ سوال دوم عمل میں لایا۔تویہ دلیل اعراض ومسقط شفعہ ہے یا اس قیاس پر کہ مصرواحد میں اقرب کو چھوڑکر ابعد کے پاس جانے سے حرج نہیں ہوتا شفعہ باطل نہ ہوگا؟
(۵)طلب اول کے جو الفاظ مدعی وشاہدان نے بیان کئے ہیں آیا وہ کافی ووافی ہیں جن سے وہی طلب قائم مقام طلبین ہوجائیگی یا نہیں؟ بالآخر حکم اخیر مطلوب ہے کہ اس روئداد مسلم کی رو سے شفعہ ثابت ہے یا ساقط؟ بینوا توجروا۔
الجواب:
کاغذات ملاحظہ ہوئے،پہلے تین سوالوں کا وہی جواب ہے جو قبل ملاحظہ مسل لکھا گیا تھا،شرع مطہر نے دو۲ باتیں لازم فرمائیں، ایك طلب بفور علم،دوم اس طلب کا بتعیین مطلوب بائع یا مشتری یا مشفوع کے سامنے ہونا طلب دوم کی اتنی ہی حقیقت ہے خاص اس لفظ کی کہ گواہ ہوجاؤ،کچھ حاجت نہیں،نہ یہ کہناداخل حقیقت اشہاد ہے۔اشہاد اعطائے ماخذ ہے یعنی دوسرے کے لئے اپنے تصرف پر تحصیل شہادت،اور بدیہی ہے کہ حصول شہادت کے لئے شاہد کے سامنے صرف وقوع درکار ہے۔نہ کہ متصرف اسے اشہاد باللسان بھی کرے،یہاں تك کہ اگر متصرف بعدتصرف شاہد کو شہادت سے منع بھی کردے، اصلا موثر نہیں،فتح القدیر میں ہے:
|
الاتفاق علی ان من سمع اقرار رجل،لہ ان یشہد علیہ بما سمع منہ،وان لم یشہدہ بل ولو منعہ منہ الشہادۃ بما سمع منہ [1]۔ |
اس پراتفاق ہے کہ جس نے کسی شخص کا اقرار سنا تو واس کو یہ حق ہے کہ اس کی سنی بات پر گوہی دے اگر چہ اقرار کرنے والا اس کو گواہ نہ بنائے بلکہ وہ گواہی سے منع کرے تو بھی گواہی دے سکتاہے۔(ت) |
اور جب حصول شہادت بے اس قول کیے گوہ ہوجاؤ ثابت ہے،تو جو تصرف متصرف بمشہد شہود اس لئے کرے کہ وہ شاہد ہوجائیں،قطعا وہ شاہد ہوجائیں گے،اور قطعا ان کے لئے اس وصف شہادت کا حصول اس نے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع