30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اماالاشہاد علی ھذا الطلب فلیس بشرط و انما ھو لتوثقۃ علی تقدیر الانکر کما فی الطلب الاول [1]۔ |
دوسری طلب میں گواہ بنانا شرط نہیں بلکہ اس لئے گوہ بنائے کہ مخالف کے انکار پر اپنے حق کو ثابت کرسکے جیساکہ پہلی طلب میں شرط نہیں ہے۔(ت) |
فتح الله المعین میں ہے:
|
الاشہاد علی الطلب التقریر لیس بشرط کما فی البدائع [2]۔ |
طلب تقریریعنی طلب ثانی میں گواہ بنانا شرط نہیں،جیسا کہ بدائع میں ہے۔(ت) |
ہندیہ میں محیط سرخسی سے ہے:
|
اما طلب الاشہاد فہو ان یشہد علی الطلب المواثبۃ حتی یتأکد الوجوب بالطلب علی الفور،ولیس الاشہاد شرطا لصحۃ الطلب لکن لیتوثق حق الشفعۃ اذا انکر المشتری طلب الشفعۃ [3] واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
طلب اشہاد یہ ہے کہ طلب مواثبت یعنی پہلی طلب پر گواہ بنائے تاکہ فوری طورپر طلب کا وجوب پختہ ہوجائے جبکہ صحت طلب کے لئے اس وقت گواہ بناناشرط نہیں ہے بلکہ اس لئے ہے کہ مخالف فریق جب انکار کرے تو یہ اپنے حق شفعہ کو مضبوط بناسکے والله تعالٰی اعلم۔ |
مسئلہ ۳۴ تا ۳۸: از ریاست رامپور مسئولہ مفتی عبدالقادر خاں صاحب مفتی ریاست رام پور ۱۰جمادی الاولٰی ۱۳۲۸ھ
مقدمہ فخر الدین خان بنام حیدر حسن خان ومسماۃ منور بیگم بنت محمد شفیع خاں میں مسل مع فتاوٰی مدخلہ بغرض ملاحظہ حاضر ہے،بعد ملاحظہ روئداد واظہارات گواہان سوالات ذیل کا جواب عطا ہو:
(۱)آیا جس حالت میں کہ شفیع کو اطلاع بیع ایسی جگہ پہنچی کہ در مشفوعہ سے قریب ہواور دار مشفوعہ پیش نظر ہو اس وقت شہود کے سامنے طلب واحد طلب مواثبت وطلب اشہا دونوں کی جگہ کافی ہوجائیگی یا دو طلب جدا گانہ کی حاجت ہے؟
(۲)صورت مذکورہ میں اگر ایك بار طلب کرکے وہاں سے اٹھ کر دار کے پاس شہود کو لے جائے اور ہنوز طلب ثانی نہ کرے، بلکہ اندر جاکر پردہ کراکر شہود کو اندرلیجا کر وہاں طلب دوم کرے تو یہ تاخیر موجب
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع