30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
رکھتا،ایسا جواب کب قابل التفات ہوسکتاہے،ہدایہ میں ہے:
|
الاتصال علی ھذہ الصفۃ انما انتصب سببا فیہ لدفع ضررالجواب اذ ھو مادۃ المضار علی ماعرف [1]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
اس طریقہ کا اتصال پڑوس کے ضرر کو دفع کرنے کے لئے سبب ہے کیونکہ پڑوس محل ضرر ہے جیسا کہ معروف ہے۔ والله تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ۳۳: مسئولہ محمد حیدر حسن خاں رامپوری ۲۲ ربیع الاول شریف ۱۳۲۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك مکان کاحصہ فروخت ہوا،شفیع جو خلیط فی نفس المبیع ہے اس نے خبر سن کر فورا طلب مواثبت کی،ادا کے وقت چند اشخاص شفیع کے پاس موجود تھے،اور اس جگہ سے مکان مبیعہ بھی نظر آتا ہے۔شفیع طلب مواثبت کرکے خود اشخاص مذکورہ کو ساتھ لےکر مکان مبیعہ کے پاس آیا،سب آدمی مکان کے دروازے کے پاس کھڑے رہے اور شفیع مکان کے اندر چلا گیا اور وہاں پردہ کرایا،اور پھر باہر آکر سب آدمیوں کو مکان کے اندر لے گیا،تب شفیع نے طلب اشہاد ادا کی،شفیع اگر چاہتا تو جس جگہ اس نے طلب اول ادا کی تھی اور وہاں سے مکان مبیعہ بھی نظر آتا تھا اس جگہ طلب ثانی بھی ادا کر سکتا تھا،یہ امر دریافت طلب ہے کہ شفیع نے جو دو تاخیریں ادا ئے طلب اشہاد میں کیں،یہ دونوں تاخیریں یا ان میں سے کوئی مبطل شفعہ ہے یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب:
صورت مستفسرہ میں نہ شفعہ باطل ہوا نہ طلب اشہاد میں تاخیر ہوئی،نہ یہاں طلب مکرر کی حاجت تھی،بلکہ وہی طلب مواثبت جو اس نے دار مبیعہ کے منظر میں کی،جہاں وہ مکان کے سامنے اور حسب بیان زبانی سائل نے صرف پچاس قدم کے فاصلہ پر تھا،وہی دونوں طلبوں کا کام دے گئی،اصل یہ ہے کہ یہاں طلب خصومت سے پہلے دو طلبیں لازم کی ہیں،ایك بفور علم اگرچہ اس وقت وہاں اور کوئی نہ ہو،دوم احدالمعاقدین یا مبیع کے سامنے،اورا گر وقت علم احدالبائعین حاضر یا مبیع پیش نظرہے،تو یہی طلب اول و ددم دونوں ہوجائیں گی،پھر طلب اشہاد میں حاضرین سے یہ کہنا کچھ ضرور نہیں کہ تم گواہ ہوجاؤ بلکہ فی الواقع دونوں میں سے کسی طلب میں گواہوں کا موجود ہونا ہی شرط نہیں،وہ صرف ثبوت دینے کے لئے درکارہوتے ہیں جبکہ مشتری انکار کرے تو گواہوں کے سامنے طلب مواثبت منظر مبیعہ میں کرنا بدرجہ اولٰی طلب اشہاد
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع