30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دوسرے کے ہاتھ مکان بیچا اور مسلمان اس کا شفیع ہے۔مسلمان کو شفعہ ملے گا،تو کھلے کفار جن کے یہاں شفعہ سرے سے کوئی چیز ہی نہیں اور وہ صراحۃ نفس اسلام سے منکر ہیں،جبکہ اپنے خیال میں عدم شفعہ یا تخالف دین کے سبب شفعہ سے بری نہ ہوئے،تو غیر مقلد کہ اصل شفعہ کا قائل ہے،اگرچہ شفعہ جوار میں کلام کرے،اور دین اسلام کا دعوٰی رکھتاہے اگرچہ اپنے دعوے میں غلط کار ہو،کیونکہ اپنے خیال یا تخالف مذہب کے باعث شفعہ سے بری ہوسکتاہے۔فتاوٰی عالمگیری میں ہے:
|
لواشتری ذی من دار بخمر اوخنزیر وشفیعہا ذمی اومسلم وجب الشفعۃ عند اصحابنا [1]۔ |
اگر کسی ذمی نے ذمی سے مکان بعوض شراب یا خنزیر خریدا اور ا س پر شفعہ کرنیوالا ذمی ہو یامسلمان ہو اس کو ہمارے اصحاب کے نزدیك شفعہ کا حق ہے۔(ت) |
فتاوٰی قاضی خان میں ہے:
|
المسلم والکافر والکبیر والصغیر والذکر والانثٰی فی الشفعۃ لہم وعلیہم سواء [2]۔ |
مسلمان،کافر،بڑا،چھوٹا،مرد اور عورت شفعہ ان کے حق میں ہو یا خلاف ہو سب برابر ہیں۔(ت) |
ہدایہ میں ہے:
|
اذاشتری ذمی بخمر اوخنزیر ان کان شفیعہا مسلما اخذ بقیمۃ الخمر والخنزیر وبالاسلام یتاکد حقہ لا ان یبطل [3] اھ ملتقطًا۔ |
جب شراب یا خنزیر کے عوض کسی ذمی نے مکان خریدا اگر مسلمان شفعہ کا حقدار ہو تو شراب اورخنزیر کی قیمت کے عوض شفعہ حاصل کرے گا،اسلام اس کے حق کو مضبوط بناتاہے نہ کہ باطل کرتاہے اھ ملتقطًا(ت) |
بالجملہ مدعاعلیہ اپنے کسی خیال ومذہب کے باعث اس حق کو مدعی کے لئے باطل نہیں کرسکتا،اور وجہ اس کی ظاہر ہے کہ شرعی مطہر نے حق شفعہ شفیع سے وضع ضرور کے لئے مشروع فرمایا ہے،مدعی کہ اپنا ضرر دفع کرنا چاہتاہے،مدعاعلیہ یہ جواب کیونکر دے سکتاہے کہ میرے خیال ومذہب میں تو اپنے ضرر کے دفع کا استحقاق نہیں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع