30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
حط کل الثمن لایلتحق باصل العقد،لانہ لو التحق لبطل البیع لانہ یکون بیعا بلاثمن فلم یصح الحط فی حق الشفیع و صح فی حق المشتری وکان ابراء لہ عن الثمن اھ [1]۔ |
ساقط نہ ہوں گے کیونکہ کل ثمن کا اسقاط اصل عقدسے ملحق نہ ہوتا کیونکہ اگر اصل بیع سے ملحق ہو تو بیع باطل ہوجائے، اس لئے کہ وہ بیع بلاثمن قرار پائیگی،تو وہ شفعی کے حق میں اسقاط نہ ہوگا،مشتری کے حق میں صحیح ہوگا اور مشتری کو ثمن سے برأت ہوگی اھ(ت) |
فتاوی قاضی خاں میں ہے:
|
قال بعتك ھذا الشیئ بعشرۃ دراہم ووھبت لك العشرۃ ثم قبل المشتری البیع جاز البیع،ولایبرأ المشتری عن الثمن لایجب الابعد قبول البیع،فاذا ابرأ عن الثمن قبل القبول کان ابرأ قبل السبب فلا یصح [2]اھ،واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
بائع نے کہا میں نے تجھے یہ چیز دس دراہم کے بدلے فروخت کی اور میں نے تجھے وہ دس ہبہ کئے پھر مشتری نے بیع قبول کرلی تو بیع صحیح ہوگی اور مشتری ثمن سےء بری نہ ہوگا جبکہ ثمن کا وجوب بیع کو قبول کرنے کے بعد ہوتا ہے اگر قبول کرنے سے قبل مشتری کو بری کردے تو یہ سبب سے قبل بری کرنا ہوگا جوکہ صحیح نہیں ہے اھ والله تعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ ۳۲: از بدایوں سوتھ محلہ مرسلہ نواب عبدالله خاں ۳ ربیع الاول شریف ۱۳۲۸ھ
حنفی المذہب جارکو وہابی غیر مقلد پر حق شفعہ حاصل ہے یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب:
بیشك حاصل ہے،تمام کتب فقہ میں حکم شفعہ عام معلق ہے،ہدایہ میں ہے:
|
الشفعۃ واجبۃ للخلیط فی نفس البیع،ثم للخلیط حق المبیع کشرب والطریق،ثم للجار [3]۔ |
عین مبیع میں شریك کو شفعہ کا حق لازم ہے پھر مبیع کے حقوق میں شریك کو جیسے زمین کو سیراب کرنے والے پانی اور اس کے راستے میں شرکت ہو اس کے بعد پڑوسی کو حق ہوگا۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع