30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کو گواہوں کاکہناکہ یہ مکان شفیع کا موروثی ہے،غلط ہوگا،ہر گز نہیں،ضرور صحیح وحق ہوگا،مگر مدعی کے کسی مصرف کا نہیں،اس کی ملك تو وقت بیع مشفوعہ سے پہلے ہواور اب تك مستمر رہے،اس کا ثبوت درکارتھا،جس کا نام تك کسی شاہد نے نہ لیا،تو ایسی شہادتیں محض ناکافی اور بے معنٰی ہیں،اور دعوٰی اصلا پایہ ثبوت کونہ پہنچا اجناس وذخیرہ ومحیط وغیرہا میں ہے:
|
ینبغی ان یشہدوا ان ھذہ الدار التی بجوار الدار المبیعۃ ملك ھذا الشفیع قبل ان یشتری ہذا المشتری ہذا الدارو ہی لہ الی ھذا الساعۃ لانعلمہا خرجت عن ملکہ فلوقالا ان ھذہ الدارلہذا الجار لا یکفی [1]۔ |
گواہ یوں شہادت دیں کہ مبیع مکان کے پڑوس میں یہ مکان اس مشتری کے اس مکان کو خریدنے سے قبل شفیع کی ملکتی میں اس قت تك ہے اور اس کی ملکیت سے خارج ہونا ہمیں معلوم نہیں،تو اگر صرف یہ کہیں کہ یہ مکان اس پڑوسی کا ہے تو اتنا کافی نہیں ہے۔(ت) |
معہذا شہنشاہی بیگم کی طرف سے جو شہادتین نیاز حسین خان وعزیز محمد خاں وسعید الدین خاں نے دیں وہ اس پیمانے پر جو آج کل تمام ہند میں رائج اور جملہ مقدمات اور خودا س مقدمہ میں مدعی ومدعٰی علیہ سب کے شہود اسی رنگ پر چلے اور چلتے ہیں، اس امر کا ثبوت دے رہے ہیں کہ سید محمد شاہ نے بعد بیع خبر سن کر تسلیم شفعہ کردی،اور طلب سے انکار کیا،اگریہ پیمانہ مقبول نہیں تو خود شہادت شہود مدعی ایك اور وجہ سے مردود ہوئی،او ر مقبول ہو تو بطلان شفعہ ثابت ہوگیا،جیسا کہ فیصلہ میں مذکور ہے،بہرحال دعوٰی شفعہ محض ناثابت ہے،اور اپیل اصلا قابل منظور نہیں،والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۱: کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایك بیعنامہ مکان کا قبل نکاح زبیدہ جس کا نکاح اس کے پسر کے ساتھ ہونے والا ہے۔بدیں مضمون لکھ کر زر ثمن کی وصولیابی کا اقرار لکھ کر معاف کردیا،اس قسم کا بیعنامہ معافی کاشرعا جائز ہے یاناجائز؟ اگر بعد نکاح زید یا اس کے ورثاء انکار وصولیابی زر ثمن کا کرکے کہیں کہ بیعنامہ بطور قرض لکھا گیا تھا شرعا قرض قرارپائے گا یا نہیں؟ اور کبھی شفیع کی شفعہ اس قسم کے بیعنامہ میں ہوسکتی ہے یانہیں؟ بینوا توجروا
میں کہ فلاں ابن فلاں ساکن رامپور ہوں جوکہ ایك منزلہ مکان چنیں وچناں واقع رامپور محدودہ ذیل
[1] فتاوٰی ہندیہ بحوالہ الاجناس والمحیط والذخیرۃ کتاب الشفعۃ الباب السابع نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۱۷۹
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع