30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۲)حکام شریعت علماء ملت کے حضور تمام کاغذات مقدمہ سید محمد شاہ مدعی بنام شہنشاہی بیگم مشتریہ وتصور شاہ بائع مدعا علیہا نمبری ۲۰۵/۴ دعوٰی شفع براراضی واقعہ کٹرہ جلال الدین خاں،فیصلہ مفتی ریاست رامپور واقع ۲۲ دسمبر ۱۹۰۷ء کی نقول با ضابطہ حاضر کرکے کہ شرع شریف کے حکم سے اس مقدمہ فیصلہ بحق مدعاعلیہا ہونا صحیح یا کیا؟ بینوا توجروا
الجواب:
اس مقدمہ کے متعلق عرضی دعوٰی وجواب دعوٰی از جانب شہنشاہی بیگم،ورد جواب از جانب مدعی واظہار عثمان خاں وعبد الرزاق خاں وسید دلاور علی خاں ونتھو خان وبشیر الدین خاں وعبدالغفار خاں گوہان مدعی و نیاز حسین خاں وعزیز محمد خان وامین الدین خان وسعید الدین خاں گواہان مدعاعلیہما وروبکار مفتی صاحب حاکم مجوز کے نقول باضابطہ فقیر کے سامنے پیش ہوئیں،اس دعوٰی کی حالت دعوی اصغر علی خاں مدعی بنام شہنشاہی بیگم مذکورہ سے بھی بدترہے مشہود مدعی میں صرف تین گواہوں نے مکان مدعی ملك ہونے کی طرف توجہ کی،ازیں جملہ عبدالغفار خاں کا بیان ہے"مکان جانب مشرق مملوك بائع کا ہے،اور جانب غرب شفیع کا ہے پکھا دونوں مکان کا مشترکہ ہے"یہ گواہ ایك ایسے دو مکانوں کا قصہ بیان کرتاہے جسکا پکھا مشترك اور ان میں ایك مملوك بائع دوسرا شفیع کا ہے،مگر اس کی شہادت کچھ پتانہیں دیتی کہ وہ مکان کس شہر،یا شہر کے کس گوشہ میں واقع ہیں، شہادت میں نہ مکانوں کی تعیین،نہ ان کی طرف اشارہ یہ شہادت اس پایہ کی ہے کہ مقدمہ اصغر علی خاں بنام شہنشاہی بیگم میں شہادت علی بہادر خاں تھی،نتھو خاں نے کہا"یہ مکان سید محمد شاہ کا جس کی وجہ سے دعوٰی شفعہ کیا ہے موروثی ہے سید دلاورعلی نے کہا"مکان شفیع کا مملوکہ موروثی ہے"لفظ اگرچہ مطلق تھا مگر اظہارمیں لکھا کہ"نشان دہی کردی"تو انھیں دو گواہوں سے ملك مشفوع بہا کا پتا چلا شہنشاہی بیگم یہاں بھی مشفوع بہا میں ملك مدعی سے منکر ہے اور مدعی نے نہ اس سے حلف لیا نہ اس نے حلف سے انکار کیا بلکہ مدعی نے شہادت پر اپنے کام کامدار رکھا،اور وہ حسب قاعدہ شرع ادانہ ہوئی کہ کسی شہادت میں بیع مشفوعہ سے پہلے مشفوع بہا کا ملك مدعی ہونا اور اب تك بالاستمرار اس کی ملك میں رہنا اصلا مذکور نہیں،مقدمہ اصغر علی خاں میں اگر چہ دعوٰی محض مجمل تھا،بجواب استفسار حاکم اور تفصیل نہ کرسکا،تو نام موث تو بتادیا،یہاں اس قدر بھی نہیں،بیان مدعی یا بیان شاہد ان کسی سے پتانہیں چلتا کہ یہ مکان محمد شاہ کو بیع مشفوعہ کے کتنے مہینے بعد میراث میں ملا ہے،بیع مشفوعہ ۱۶ دسمبر ۱۹۰۶ء کو ہوئی،اور شہادتیں ۱۳۹۹ جون ۱۹۰۷ء کو ہیں کیا اگر ۸ جون ۱۹۰۷ء تك سید محمد شاہ کاکوئی مورث باپ یا بھائی یا چچا وغیرہم اس مکان مشفوع بہا کا مالك رہا،اور اس تاریخ اس کی وفات ہوئی،اورمکان ملك سید محمد شاہ میں آیا تو ۹ جون
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع