30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نہ کھلا کہ اصغر علی خاں کا مکان موروثی دار مشفوعہ کے محلہ واقع ہے یا شہر کے دوسرے کنارے پر،تو مشفوع بہا کی ملك سے اس میں بھی اصلا بحث نہیں،علی بہادر خاں نے کہا سید تصور شاہ کے مکان سے پورب کو مکان موروثی مدعی کاملاہوا ہے۔معلوم نہیں تصور شاہ کے کسی مکان سے ؟ ہاں دو گواہیاں ملك مشفوع بہا کا پتا دے رہی ہیں،صفد ر علی خاں ولدعباس خاں نے کہا مکان موروثی مدعی سے کھپریل مکان متنازعہ کے دکھن کہ دیوار ودرمیان میں ہے"اس سے جار ملاصق ہونا معلوم ہوا،اگر چہ مدعی خلیط فی المبیع ہونے کا مدعی ہے۔بشیر الدین خاں نے کہا"جس مکان کی کوٹھی کی اراضی فروخت ہوئی ہے اس مکان سے پورب کی جانب کی مکان اصغر علی خاں کا ہے۔اور وہ مکان اصغر علی خاں کا موروثی ہے ان دونوں مکانوں کا راستہ بھی ایك ہی کوچہ میں ہے"اوریہی گواہ بمقدمہ سید محمد شاہ بنام شہنشاہی بیگم مذکورہ بیان کرچکا ہے کہ اس کی ڈاڑھی چٹکی میں آجاتی ہے۔ اول ڈاڑھی کترواتا تھا اب توبہ کرلی اب نہیں منڈائے گا،ان سب گواہیوں میں یہی گواہی چست ہے کہ اس نے ان لفظوں سے کہ"جس مکان کی کوٹھی کی اراضی فروخت ہوئی ہے"اپنے تنگ خیال کے مطابق تعیین مکان بھی کی اور دونوں کا راستہ ایك ہی کو چہ میں ہونے سے خلط فی حق المبیع بھی بتایا،مگر ت،تمام نقائص سے قطع نظر کرکے ان میں سے کسی نے مورث کا نام تك نہ لیا،ا س کی تاریخ موت بتانا تو بڑی بات ہے،تونری موروثی ہونے سے کیا کھلا کہ یہ مکان کب سے اصغر علی خاں کی ملك ہے، ممکن کہ وہ مورث جس کے ترکہ سے یہ مکان مدعی کو وراثۃ بعد بیع دار مشفوعہ مراد ہو،تو اس مکان کے ذریعہ سے مدعی کو کیا استحقاق شفعہ ہوسکتاہے،شہادت اس لئے ہوتی ہے کہ حق حاکم پر ظاہر ہو،ان شہادتوں کا اجمال واہمال یہ ہے کہ مجوزنے فیصلہ میں کہا کہ گواہان مدعی نے یہ نہ بیان کیا کہ مدعی مورث کا بیٹا ہے یا بھائی ہے یاکون"جب قاضی کو مورث کا ہی پتہ نہ چلا تو تاریخ موت کیونکر معلوم ہوسکتی ہے جس سے جانا جائے کہ دار مشفوعد بہا عندالبیع ملك شفیع تھی یا نہیں،لاجر م شہادتیں محض مہمل ہیں اور دعوٰی اصلا پایہ ثبوت کو نہ پہنچا،ردالمحتارمیں ہے:
|
لوقالا انہا لہذا الجار لایکفی کما فی المحیط[1]۔ |
اگر دونوں گواہ یہ کہیں کہ مکان اس پڑوسی کا ہے تو کافی نہیں، جیسا کہ محیط میں ہے۔(ت) |
لہذا واجب تھا کہ دعوٰی خارج ہو،جیسا کہ مفتی ریاست نے کیا،اور لازم ہے کہ اپیل نامنظور،والله تعالٰی اعلم۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع