30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
المدعی علیہ ھل اشتریت ام لا الخ ملخصا [1]۔ |
ہوجائیگی یوں شفعہ کا سبب ثابت ہوجائیگا اس کے بعد قاضی مدعی علیہ(مشتری)سے سوال کرے کیا تو نے یہ دار خریدا ہے یا نہیں الخ ملخصا(ت) |
اس مقدمہ میں ظاہر ہے کہ مدعاعلیہا ملك شفیع کی منکر ہے۔نہ شفیع نے حلف چاہا نہ اس نے حلف سے انکار کیا،تو صرف صور ت شہادت رہی،او روہ محض ناکافی گزری،یہاں شہادت اس مضمون کی درکار ہے کہ دار مشفوعہ کی بیع سے پہلے دار مشفوع بہا شفیع کی ملك تھی او راب تك اس کی ملك ہے ہمارے علم میں جب سے اب تك اس کی ملك سے خارج نہ ہوئی،محیط وہندیہ میں ہے:
|
ان یقر المدعی علیہ بشراء الدار وینکر کون المدعی شفیعہا بالدار التی حدہا وینکرکون الدرا التی حدہا ملکا اللمدعی،احضر المدعی الشہود وشہد کل منہم [2]۔(ملخصا)۔ گواہی میدہم کہ خانہ کہ بفلاں موضع ست حد ہائے وے کذا وکذا ملك ایں مدعی بودیپیش از انکہ ایں مدعی علیہ مرایں خانہ راخریدوبرملك وے ماند تا امروز وامروز ایں خانہ ملك ایں مدعی ست۔ |
مدعی علیہ دا ر کی خریداری کا اقرا رکرے اور شفیع جس مکان کی بناء پر مدعی کے بیان کردہ دار پر مدعی کی ملکیت کا انکار کرے تو مدعی گواہ پیش کرے اور ہر گواہ شہادت دے(ملخصا)۔(ت) میں گواہی دیتاہوں کہ جو مکان فلاں موضع میں ہے اس کی حدود یوں یوں ہیں وہ اس مدعی کی ملکیت میں دعی علیہ کے اس خاص مکان کو خریدنے سے قبل تھی اورآج یہ مکان اس مدعی کا ہے۔(ت) |
ا وریہ اس لئے کہ اگر وقت بیع دار مشفوع بہا ملك شفیع میں نہ تھا،تو اس سبب سے اس میں استحقاق شفیع نہیں ہوسکتا اگر چہ بعد بیع یہ دار مشفوع بہاوراثت یا بیع یاہبہ یا وصیت وغیرہا سے ملك مدعی میں آجاوے،عالمگیریہ میں ہے:
|
الشفعۃ شرطہا ملك الشفیع وقت الشراء فی الدار التی یاخذبہا |
شفعہ کی صحت کے لئے یہ شر ط ہے جس دار کی بناء پر شفعہ کادعوٰی ہے اس پر مشتری کی خریداری |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع