30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اپنے ہاتھ میں لے گیا اور بکر سے جاکر اس نے کہا کہ میں ان حصہ دکان ومکان کا شفیع ہوں،تم نے اس حصہ کو کیسے خریدکیا میں خریدوں گا۔زیدنے زبان سے یہ نہیں کہا کہ میں روپیہ لایاہوں،قیمت لو اور یہ جائداد میرے نام کرو،بکر نے زید کی گفتگو کے جواب میں جائداد مذکور دینے سے انکار کردیا،زید کے اس امر کے اظہار نہ کرنے سے کہ میں روپیہ لایاہوں قیمت لو اور یہ جائداد میرے نام کردو،حالانکہ روپیہ اسی نیت سے لے گیا تھا اور وہ اس کے ہاتھ میں موجود تھا صرف زبان سے اس کا ذکر نہیں کیا،تو ایسی حالت میں مراتب شفیع بموجب شرع شریف پورے طور سے ادا ہوئے یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب:
نہ روپے لے جانا ضرور نہ مشتری سے روپیہ لانا کاذکر ضرور،یہ سب بیکار ومہمل باتیں ہیں،مگر طلب مواثبت ایسے لفظ سےجس سے فی الحال طلب ثابت ہو،ضرور ہے۔سائل نے بعد دریافت بیان کیا کہ میں نے خبر سنتے ہی یہ لفظ کہے تھےکہ میں اس کا شفیع ہوں،ریاض الدین نے کیسی خریدی میں خریدوں گا،اس سے طلب فی الحال ثالث ثابت نہیں ہوتی"خریدوں گا"سے اگر یہ مراد ہےکہ مشتری سےخریدوں گا،جب تو ظاہر ہے کہ مشتری سے خریداری کا ذکر شفعہ کو باطل کردیتاہے۔درمختارمیں ہے:
|
یبطلہا شراء الشفیع من المشتری وکذا ان ساومہا بیعا واجارۃ اوطلب منہ ان یولیہ عقد الشراء [1](ملخصا) |
شفیع کا مشتری سے خریدنا ا وریونہی بیع یا اجارہ کا سودا کرنا یا عقد شراء کا ولی بننے کا مطالبہ کرنا اس کے حق شفعہ کو باطل کر دیتا ہے۔ملخصا(ت) |
اور اگر یہ مراد ہو کہ بائع سے خریدوں گا تو یہ بھی طلب شفعہ نہیں،خریداری تملك بالرضا ہے۔اور شفعہ تملك بالجبر، در مختارمیں ہے:
|
تملیك البقعۃ جبرا علی المشتری بما قام علیہ [2]۔ |
شفعہ کسی ٹکڑا زمین کا مشتری سے اس پر لازم قیمت کے ساتھ جبر امالك بننے کا نام ہے۔(ت) |
اورا گر مجازا یہی معنی مرادلئے جائیں کہ بذریعہ شفعہ لے لوں گا،تویہ بھی وعدہ وانذار ہے۔طلب فی الحال نہیں،عالمگیری میں ہے:
|
لوقال الشفعۃ لی اطلبہا بطلت |
اگرکہا میرا شفعہ ہے میں اس کی طلب کروں گا،تو |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع