30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لم یکف الاتصال بجزئہ الاٰخر،فان الاتصل بالجزء اتصال بالکل مجملا،لابکل جزء منہ فردا فرادا فافترقا [1]۔ |
اس مبیع کی دوسری جزء کااتصال کافی نہیں کیونکہ جزء کے اتصال سے کل کا اتصال مجمل ہوتاہے نہ کہ ہر ہر جز ء سے فردا فردا ہوتاہے۔تو یوں دونوں صورتوں میں مختلف ہیں۔(ت) |
شریك فی حق المبیع کے لئے مبیع سے اتصال ضرور نہیں۔صرف شرکت حق مثل طریق خاص وغیرہ کافی ہے۔درمختارمیں ہے:
|
فی شرح المجمع وکذا للجار المقابل فی السکۃ الغیر النافذۃ الشفعۃ [2]۔ |
شرح مجمع میں ہے یونہی بندگلی کا سامنے والا پڑوسی بھی شفعہ کا حقدارہے۔(ت) |
ردالمحتارمیں ہے:
|
وجہہ ابوالسعود بان استحقاقہا فیہ الشرکۃ فی حق المبیع فلاتعتبر الملاصقۃ[3]۔ |
اس کی وجہ ابوسعود نے یہ بیان کی کہ بند گلی کا استحقاق شفعہ مبیع کو حقوق میں شرکت پر مبنی ہے اس میں اتصال کا اعتبار نہیں ہے۔(ت) |
ا ور چند شرکاء حق میں اگر ایك جار ملاصق بھی ہے باقی نہیں تو اسے ان باقیوں پر کوئی ترجیح نہ ہوگی،وہ سب یکساں ہیں،
عالمگیریہ میں بدائع سے ہے:
|
الشفعۃلاہل السکۃ کلہم یستووی فیہا الملاصق وغیر الملاصق لانہم کہم خلطاء فی الطریق [4]۔ |
بندگلی والوں کو شفعہ کاحق مساوی ہے خواہ اتصال والے ہو یا نہ ہوں کیونکہ وہ تمام گلی کے راستہ میں شریك ہیں۔(ت) |
پس صورت مستفسرہ میں خالد،بکر،یحیٰی،یوسف،یعقوب اور سامنے کو چاروں مکان اور کوٹھی والے سب اس جز مبیع کے یکساں شفیع ہیں،ان کے ہوتے عمرو اور اس کے برابر کےچاروں محلہ دار جن کے دروازے دوسرے کوچہ میں ہیں شفیع نہیں ہوسکتے جبکہ او رکوئی استحاق نہ رکھتے ہو،والله تعالٰی اعلم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع