30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
مثل ما فی العیون ومثلہ ایضا فی الہندیۃ عن المحیط عن شرح ادب القاضی للخصاف،ووجہ اشکالہ ان ماھنا مصرح بہ فی عامۃ کتب المذھب العتمدۃ متونا وشروحا وفتاوٰی،فماخالفہ فہو المشکل لاھذا۔ اقول:ویؤید ماھنامانص علیہ المتون ان سبب الشفعۃ اتصال ملك الشفیع بالمشتری،وظاہر ان المشتری اذا کان مفرزا مفصولا عن ملك الشفیع لم یکن بینہما اتصال،ولایکفی الاتصال بالواسطۃ والا لکان الجار الغیر الملاصق المحاذی ایضا شفیعا ولا قائل بہ۔ولاینکر علیہ بماصرحوا بہ ان الماصق بشبر کالملاصق بجمیع حدود،وذٰلك لان الاتصال بجزالشیئ اتصال بالشیئ،ولا نسلم ان لاتصال بجزء من شیئ یکون اتصالا بجزئہ الاخر،الاتری ان العمامۃ الملاصقۃ لرأس زید ملاصقۃ لزید لا لرجلہ والنعل المتصل برجل زید متصلۃ بزید لا برأسہ،فاتضح ان روایۃ العیون مشکلۃ والحاصل ان المبیع اذا کان الکل کفی الاتصال بجزئہ واذا کان جزء معین من شیئ
|
یہ عیون المسائل میں مذکور کی مثل ہئے اور اسی کی مثل ہندیہ میں ہے محیط سے انھوں نے خصاف کی شرح ادب القاضی سے نقل کیا ہے۔اس کے اشکال کی وجہ یہ ہے کہ یہاں جو مذکور ہے وہی تمام معتمد کتب مذہب متون وشروح اور فتاوٰی میں تصریح شدہ ہے تو جوان کی تصریحات کے خلاف ہے وہ مشکل ہے نہ کہ یہ،میں کہتاہوں یہاں پر ذکرکردہ کی تائید میں تمام متون کی نصوص ہیں کہ شفعہ کا سبب خرید کردہ چیز شفیع کی ملکیت کا اتصال ہے اور ظاہر بات یہ ہے کہ جب خریدکردہ چیز شفیع کی ملکیت سے علیحدہ فاصلہ پر ہو تو اتصال نہ ہوگا جبکہ بالواسطہ اتصال کافی نہیں ہے نہ ورنہ پڑوسی کا پڑوسی غیر اتصال والا بھی شفیع بن جائے گا حالانکہ اس کا کوئی بھی قائل نہیں ہے اس پر یہ بیان وار دنہیں ہوسکتاجس کی تصریح یوں ہے کہ ایك بالشت کا اتصال جمیع حدود کا اتصال اور یہ اس لیے کہ چیز کی جز سے اتصال چیز سے اتصال ہے لیکن ہمیں یہ تسلیم نہیں کہ ایك جز سے اتصال اس کی دوسری جز سے اتصال ہے۔آپ دیکھ رہے کہ عمامہ کا اتصال سرے سے ہونے کی وجہ سے زید کے پاؤں سے اتصال نہیں اور زید کے پاؤں کو اس کے جوتے کااتصال ہے اس کے سر سے اتصال نہیں ہے۔تو واضح ہوگیا کہ عیون المسائل والی روایت مشکل ہے اور حاصل یہ کہ جب کل مبیع ہو تو اس کی کسی جز کا اتصال شفعہ کے لئے کافی ہے اور جب کوئی معین جز مبیع ہو تو |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع