30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
نحو ذٰلك سواء علم بالبیع اولم یعلم ان کان بعد البیع ھکذا فی البدائع [1]۔ |
ان کی مثل او رالفاظ یہ الفاظ بیع کے بعد کہے خواہ بیع کاعلم ہویانہ ہو،بدائع میں یوں ہے۔(ت) |
اس میں ہے:
|
اذا قیل لہ ان المشتری فلان فسلم الشفعۃ ثم علم انہ غیرہ فلہ الشفعۃ واذا قیل لہ ان المشتری زید فسلم ثم علم انہ عمرو وزید صح تسلیمہ لزیدو کان لہ ان یأخذ نصیب عمرو،کذا فسرہ الجوہرۃ النیرۃ ولواخبر ان الثمن الف فسلم فاذ الثمن اقل من ذلك فہو علی شفعتہ فلو کان الثمن الفاء اواکثر فلاشفعۃ کذ افی الذخیرۃ [2]۔ |
جب اسے بتایا گیا مشتری فلاں شخص،تو اس نے شفعہ چھوڑ دیا،پھر اسے معلوم ہوا کہ کوئی اور ہے تو اسے شفعہ کا حق باقی ہے۔جب اسے بتایا گیا کہ مشتری زید ہے تو اس نے شفعہ چھوڑ دیا پھر بعد میں معلوم ہو اکہ زید کے ساتھ کوئی دوسرا بھی مثلًا عمرو شریك ہے تو زید کے حق میں چھوڑنا صحیح ہوگا او رعمرو کے حصہ میں اسے شفعہ کا حق ہے_____ جوہر نیرہ نے اس کی یوں تفسیر کی ہے جب معلوم ہو اکہ مبیع کی قیمت ہزار ہے تو اس نے شفعہ چھوڑدیا، بعد میں معلوم کہ ثمن اس سے کم ہے تو اس کا شفعہ قائم رہے گا،ہاں اگر ثمن ہزار یا زائد ہو تو پھر شفعہ نہ ہوگا ذخیرہ میں یوں ہے۔(ت) |
اسی میں ہے:
|
فالاصل فی جنس ھذہ المسائل ان ینظر ان کان لا یختلف غرض الشفیع فی التسلیم صح التسلیم و بطلت الشفعۃ وان کان یختلف غرضہ لم یصح وھو علی شفعتہ کذ افی البدائع [3]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
اس قسم کے مسائل میں ضابطہ یہ ہے کہ دیکھا جائے کہ شفعہ چھوڑ نے کی غرض بعد میں تبدیل نہیں ہوتی تو چھوڑنا برقراررہے گا اور شفعہ باطل ہوگا اور غرض تبدیل ہوجائے تو شفعہ باقی رہے گا اور ساقط نہ ہوگا،بدائع میں یوں ہے۔والله تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ۲۵: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ا س باب میں کہ ایك کوچہ غیر نافذہ میں ایك
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع