30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
رددت کما بلغت،والزوج یقول سکت فالقول للزوج، فکذا لوقال طلبت الشفعۃ کما سمعت فقال المشتری سکت فالقول للمشتری [1]۔ |
تو اس نے کہا میں نے اپنا نکاح ردکیا جب یہ خبرپہنچی اور خاوند کہتاہے تو خاموش رہی تو خاوند کی بات معتبرہوگی تو یوں ہی اگر شفیع کہے جب مجھے معلوم ہوا میں نے شفعہ طلب کیا تو مشتری کہے تو خاموش رہا،تو مشتری کی بات معتبرہوگی۔(ت) |
اسی میں ہے:
|
لو لم یکن عندھا شہود فاذا وجدتہم فلو بلغت بحیض تقول حضت الاٰن و نقضتہ،فاشہد واعلیہ و لو بلغت باحتلام اوبسن تقول کما بلغت نقضتہ، فاشہدوا اوتقول اشہدوا،انی بلغت ونقضتہ فان قالوا متی بلغت تقول کما بلغت نقضتہ ولا تزید علی ھذا الانہا لو قالت بلغت قبل ھذ اونقضتہ حین بلغت لاتصدق [2]۔ |
اگر بالغ ہونے کے وقت گواہ موجود نہ تھے اور اس نے گواہ پاکر گواہی بنائی تو اگر وہ لڑکی حیض کے ساتھ بالغ ہوئی ہو تو یوں کہے کہ مجھے ابھی حیض آیا ہے اور میں نکاح کو توڑتی ہوں تم اس پر گواہ ہوجاؤ،اور اگر وہ احتلام یا عمرو کی بناء پر بالغ ہوئی ہو تو یوں کہے جونہی میں بالغ ہوئی میں نے نکاح توڑدیا تو تم گواہ ہوجاؤ،یاکہے تم گواہ بن جاؤ میں بالغ ہوئی اور میں نے نکاح توڑدیا،اگروہ پوچھیں تو کب بالغ ہوئی،جواب میں کہے جیسے ہی میں بالغ ہوئی میں نے نکاح توڑ دیا اور اس پر مزید کچھ نہ کہے،کیونکہہ اس نے کہا میں قبل ازیں بالغ ہوئی اور میں نے توڑ دیا،جب بالغ ہوئی تو اس کی بات قابل تصدیق نہ ہوگی۔(ت) |
دیکھو زمانہ متقدم بتانے کی حالت میں ادعائے فورا اتصال کو بھی رد فرمادیا،غرض نہ مدار قبول مجرد ادعائے اتصال پر ہے،نہ مناط عدم قبول محض اضافت بماضی،بلکہ طلب شہود معہود سے اتصال کا صراحۃ بیان یا طلب مواثبت کے لئے کوئی وقت متقدم علی وقت الاشہاد نہ بیان کرنا،اور صرف بیان اتصال پر قانع ہونا درکار ہےکہ عینا یا احتمالا یہی طلب مشہود مراد ہوسکے،او رطلب مشہود سے تقدم علم کا اقرار موجوب عدم قبول قول ہے۔اگر چہ لاکھ مدعی اتصال ہوں،اوریہیں سے ظاہر ہواکہ جس طرح طلبت کما علمت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع