30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بطلت شفعتہ۔ولیس فی ھذا اختلاف بین ائمتنا فیما علمت [1]۔ |
طلب سے مقدم کردیا تو اس کا شفعہ باطل ہوگا۔اورمیرے علم کے مطابق اس میں ہمارے ائمہ کا کوئی اختلاف نہیں ہے۔(ت) |
ناچار عندالقاضی نسبت الی الماضی ہی کرے گا،ولہذا فتح الله المعین میں فرمایا:
|
انہ لایستحلف الا اذا اسند الطلب الی الزمن الماضی [2]۔ |
شفیع سے قسم نہ لی جائے گی مگر جب اس نے طلب کو زمانہ ماضی کی طرف منسوب کیا قسم لی جائیگی۔(ت) |
اسی طرح یہ معنی بھی زنہار مراد نہیں ہوسکتا کہ شفیع کا اتنا کہہ دینا کہ"میں نے بمجرد علم طلب کی"مطلقًا کا فی ووافی ہے اگرچہ اس طلب کا زمانہ طلب اشہاد سے مقدم بتا چکا ہو۔ایسا ہی ہوتا ہو جس صورت میں اہل توفیق نے قول شفیع معتبر نہ رکھا،یعنی علمت امس وطلبت(مجھے گزشتہ روز علم ہوا اور میں نے طلب کی۔ت)واجب تھا کہ اس میں بھی قبول ہوتا۔اور فرق محض ضائع رہتا کہ شفیع یہاں طلب مواثبت سےخبردے رہا ہے۔اور وہ نہیں ہوتی مگر بفور علم،تو اس طلبت کے معنی قطعا یہی ہے کہ طلبت کما علمت(میں نے طلب کیا جب مجھے معلوم ہوا۔ت)ولہذا اس صورت میں عدم قبول قول شفیع کو سراجیہ میں بلفظ فاء تعقیب بیان کیاکہ:
|
الشفیع لو قال طلبت الشفعۃ حین علمت کان القول لہ،ولو قال علمت منذ کذا فطلبت وقال المشتری ماطلبت فالقول للمشتری [3]۔ |
شفیع نے اگر کہا میں نے اسی وقت طلب کی جب مجھے علم ہوا تو اس کا قول معتبر ہوگا اور اگر کہا مجھے فلاں دن سے معلوم ہے تو میں نے طلب کی تھی اورمشتری کہے تو نے طلب نہ کی تھی تو مشتری کی بات معتبر ہوگی۔(ت) |
شرح مبسوط میں خاص انھیں الفاظ اتصال پر حکم عدم قبول دیا:
|
حیث قال کما نقل عنہ فی جامع الفصولین برمز "شصل"بلغت بکرا فقالت |
جہاں انھوں نے فرمایا جیسا کہ ان سے جامع الفصولین میں منقول ہے برمز"شصل"باکرہ لڑکی بالغ ہوئی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع