30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ولم یطلب الشفعۃ یقول القاضی للمدعی متی اشتری ھذہ الدار فان قال المدعی طلبت الشفعۃ حین علمت کان صحیحا اکفاہ ذٰلك فان قال المشتری ماطلبت حین علمت کان القول الشفیع،وان قال الشفیع علمت منذ سنۃ وطلبت وقال المشتری لم تطلب کان القول قول المشتری،وھو کالبکراذا زوجت فبلغہا الخبر فردت فاختصما الی القاضی فقال الزوج حین بلغہا الخبر سکتت،وقالت رددت حین علمت،کان القول قولہا،وان قالت علمت یوم کذا و رددت لا یقبل قولہا(الی ان قال)ولو قیل للشفیع متی علمت، فقال امس اوفی یومی قبل ھذہ الساعۃ لایقبل قولہ الاببینۃ [1]۔ |
اس نے طلب نہ کی تو اس صورت میں قاضی مدعی سے کہے گا کہ یہ دار کب سے خرید اگیا تو مدعی نے اگر جواب میں کہا کہ میں نے علم کے وقت ہی طلب کی تھی تو مدعی کا یہ بیان صحیح ہوگا اور قاضی اس کو کافی قرار دے گا تو مشتری اگر کہے کہ تو نے علم کے وقت طلب نہ کی تو شفیع کی بات معتبر ہوگی،اور اگر شفیع نے یوں کہا کہ میں نے سال سے جانا اور طلب کی اور مشتری کہے تو نے اس وقت طلب نہ کی تو مشتری کا قول معتبر ہوگا،یہ معاملہ باکرہ لڑکی کے نکاح کی طرح ہے کہ اس کو نکاح کی خبر پہنچی تو اس نے نکاح کو رد کیا تو خاوند بیو ی کا یہ اختلاف قاضی کے سامنے پیش ہو تو خاوند کہے اس کو جب نکاح کی خبر پہنچی تو یہ خاموش رہی اور عورت کہے میں نے علم ہوتے ہی رد کردیا تھا تو عورت کی بات معتبر ہوگی اور اگر عورت کہے کہ مجھے فلاں روز علم ہوا اور میں نے رد کردیا تھا تو عورت کی بات معتبر نہ ہوگی(یہاں تك فرمایا)او ر اگر شفیع کوکہا گیاتونے کب معلوم کیا تو اس نے کہا گزشتہ روز یاآج ایك گھنٹہ قبل تو شفیع کی بات بغیر گواہی قبول نہ ہوگی۔(ت) |
علامہ مولی خسرو غررمیں فرماتے ہیں:
|
قال الشفیع طلبت حیط علمت فالقول لہ بیمینہ،ولو قال علمت امس وطلبتہ کلف اقامۃ البینۃ [2]۔ |
شفیع کہے جس وقت مجھے علم ہوا اس وقت میںطلب کی تو اس کی بات قسم کے ساتھ معتبر ہوگی،اور اگر کہے مجھے گزشتہ روز علم ہوا اور میں نے طلب کی تو اسے گواہی کاپابند کیاجائے گا۔ (ت) |
دررمیں ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع