30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
یقول طلبت فالقول قول المشتری فلا بد من الاشہاد وقت الطلب توثیقا [1]۔ |
اس وقت طلب کیا ہے تو مشتری کی بات مانی جائے گی اسی لئے کہ وقت الشہاد ضروری ہے تاکہ معاملہ پختہ ہو۔(ت) |
اور اگر شفیع نے طلب مواثبت کے لئے کوئی وقت اس طلب الشہاد ومشہود سے پہلے نہ بیان کیا،بلکہ صراحۃ تصریح کردی کہ جس وقت میں نے طلب اشہاد کی اسی وقت مجھے علم ہواتھا اس سے پہلے علم بالبیع نہ تھا،تو شفیع ہی کا قول حلف کے ساتھ مقبول ہے۔ا سے طلب مواثبت پر جداگانہ گواہی دینے کی حاجت نہیں،مشتری اگر دعوٰی کرے کہ طلب اشہاد سے پہلے شفیع کوعلم بالبیع ہولیا تھا،اور اس نے اس وقت طلب مواثبت نہ نکی تو اب مشتری مدعی ہے۔یہ گواہی دے،اسی لئے کہ اب یہ حصول علم فی الماضی کا ادعا کرتا اور شفیع منکر ہے۔
|
والحادث یضاف الی اقرب الاوقات،والاصل العدم فمن خالف ھذین الاصلین فعلیہ البینۃ۔ |
نیا معاملہ اقرب وقت کی طر ف منسوب ہوگا،اور یہ کہ عدم اصل ہے۔جو شخص ان دونوں قاعدوں کے خلاف کرے تو اس پر گواہ لازم ہوں گے (ت) |
فتاوٰی امام قاضی خاں میں ہے:
|
لوقال الشفیع لم اعلم بالشراء الاالساعۃ کان القول قولہ،وعلی المشتری البینۃ انہ علم قبل ذٰلك ولم یطلب [2]۔ |
اگر شفیع کہے کہ مجھے خریداری کا علم نہ تھا اب ہواہے،تو اس کاقول معتبر ہوگا۔اور مشتری گواہی پیش کرے کہ اس کو پہلے علم ہوچکا اور اس نے طلب نہ کیا۔(ت) |
سراجیہ میں ہے :
|
الشفیع اذا طلب الشفعۃ فقال المشتری علمت بالبیع قبل ھذا ولم تطلب وقال الشفیع علمت بہ الساعۃ فالقول للشفیع[3]۔ |
شفیع نے طلب کیا تو مشتری نے کہا تجھے قبل ازیں بیع کا علم ہوگیا تھا تو نے مطالبہ نہ کیا جبکہ شفیع کہے کہ مجھے ابھی علم ہوا ہے تو شفیع کی بات قبول ہوگی۔(ت) |
خزانۃ االمفتین میں فتاوٰی ظہیریہ اور عالمگیری میں محیط سے ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع