30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لقائہ فعلی البتات [1]۔ |
ملاقات کے وقت طلب کا دعوٰی کیا تو اس صور ت میں مشتری قطعی قسم کھائے گا(کہ شفیع نے قبل ازیں مواثبت نہیں کی)۔ (ت) |
اشباہ میں ہے :
|
انکر المشتری طلب الشفعۃ حین علم فالقول لہ مع یمینہ علی نفی العلم [2]۔ |
مشتری نے طلب کا انکار کیا کہ شفیع نے بیع کی خبر سننے پر مواثبت نہیں کی تو مشتری اپنے علم کی قسم کھائیگا اور اس کی بات مان لی جائے گی۔(ت) |
خزانۃ المفتین میں فتاوٰی کبرٰی سے ہے:
|
المشتری اذا انکر طلب الشفعۃ عند سماع البیع فالقول لہ مع الیمین علی العلم باﷲ ما یعلم ان الشفیع حین علم بالبیع طلب [3]۔ |
مشتری نے طلب شفعہ کا انکار کیاکہ شفیع نے بیع کی خبر سننے پر مواثبت نہیں کی تو اپنے علم کی قسم پر اس کی بات قبول کرلی جائے گی اور یوں کہے گا کہ الله کی قسم مجھے علم نہیں کہ شفیع نے سن کر موقعہ پر طلب کی ہو۔(ت) |
ہندیہ میں ملتقط سے ہے:
|
المشتری اذا انکر طلب الشفیع الشفعۃ عند سماع البیع یحلف علی العلم،وان انکر طلبہ عند لقائہ حلف علی البتات [4]۔ |
شفیع کا بیع کی خبر سننے پر طلب کا اگر مشتری انکا ر کرے تو اپنے علم کی قسم دے گا۔اور اگر اس کی ملاقات کے موقعہ پر طلب کا مشتری انکار کرے تو قطعی قسم دے۔(ت) |
اسی طرح کتب کثیرہ میں ہے۔اسی میں محیط امام سرخسی سے ہے:
|
اذا انکر المشتری طلب الشفعۃ فیقول لہ لم تطلب الشفعۃ حین علمت بل ترکت الطلب وقمت عن المجلس والشفیع |
مشتری طلب شفعہ کاانکار کرتے ہوئے شفیع کو کہے کہ تو نے بیع کی خبر سن کر شفعہ طلب نہ کیا بلکہ تو مجلس سے اٹھ گیا اور طلب کو ترك کیا،اور شفیع کہے کہ میں نے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع