30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پہلے بیان کیا اور مدعی ہواہے کہ اسی وقت بمجرد علم بالبیع میں طلب مواثبت بجالایاتھا،تو ہرگز بے بینہ مسموع نہیں،نہ شفیع کا حلف اصلا قابل سماعت کہ وہ باقرار خود سبقت علم مان چکا ہے اور اس کی معیت کا ایك ایسی طلب کے لئے مدعی ہے جو ہنوز مجہول وغیر ثابت ہے۔
|
فکیف یصدق فیما ھو غیر بین ولا مبین مع توقف ثبوت حقہ علیہ۔ |
تو غیر واضح چیز میں وہ کیسے تصدق کرے جبکہ اپنے حق کو ثابت کرنا خو د اس پر موقوف ہے۔تو اور کون واضح کرے گا۔ (ت) |
وہ حصول طلب فی الماضی کا مدعی ہے اور مشتری منکر۔
|
والاصل العدم ومن ادعی خلاف الاصل فعلیہ تنویر دعواہ بالبینۃ۔ |
عدم اصل ہے اور جوشخص اصل کے خلاف کا دعوٰی کرے اس پر اپنے دعوٰی کو روشن کرنا گواہی کے ساتھ ضروری ہے۔ (ت) |
وہ ایك ایسی چیز کی حکایت کررہاہے جو اس وقت اس کے اختیار سے باہر ہے کہ وہ سبقت علم کا مقر ہوا،اور طلب مواثبت کا وقت اسی فور میں تھا اس وقت احداث طلب پر قدرت نہیں رکھتا۔اور جو ایسی شیئ کا حاکی ہو اس کا قول بے بینہ مسموع نہیں،
درروغرر میں ہے:
|
من حکی مالایملك استئنافہ للحال،لایصدق فیما حکی بلا بینۃ [1]۔ |
جس کو فی الحال نافذکرنے کامالك نہیں تو اس کی حکایت بغیرگواہی قابل تصدیق نہ ہوگی۔(ت) |
یہی معنی ہیں تصریحات کے کہ طلب مواثبت بے بینہ کے ثابت نہیں ہوسکتی۔
|
ای اذا کان طلب المواثبتۃ وحدہ بخلاف مایاتی فانہ لم یثبت فیہ انفرادہ عن طلب الاشہاد،کما ستعلم، وطلب واحد ربما یقوم مقام الطلبین فبعد اثبات طلب الاشہاد بالشہود اوثبوتہ باقرارالمشتری لایحتاج الی ا ثبات طلب المواثبۃ |
یعنی جب طلب مواثبت الگ ہو یہ آئندہ آنیوالی صورت کے برخلاف ہے جہاں طلب مواثبت میں اس بات کا ثبوت نہیں کہ وہ طلب اشہاد سے خالی ہے جیسا کہ عنقریب تجھے معلوم ہوگا جبکہ ایك ہی طلب وہ مطالبوں کے قائم مقام ہوسکتی ہے تو گواہوں کے ذریعہ طلب اشہاد کے اثبات یا خود مشتری کے اقرار سے ثبوت کے بعد شفیع کو اب طلب مواثبت کے اثبات |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع