30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عبارات کثیرہ علماء کو بظاہر نہایت متخالف ومتعارض تھیں بکثرت جمع کیں،اور ان کے محط انظارومنزع کلام و منظر مراد وملحظ مرام پر بتوفیقہ تعالٰی نظریں ڈالیں او ربعد تحقیق وتدقیق وتطبیق وتوفیق وہ حکم نفیس مشید بالاصول و مؤید بتظافر العقول والمنقول منقح کرلیا جس نے بحمدالله تعالٰی ان تمام عبارات متعارضہ کو یك زبان کردیا اور تصادم و تزاحم یك لخت اٹھ گیا،اور مختلف ظنوں کو مختلف مناشی سے اکابر علماء مثل علامہ ابن قاضی سماوہ وعلامہ حموی و علامہ ابوالسعود ازہری وعلامہ سائحانی اور شامی رحمہم الله تعالٰی کو پیدا ہوئے تھے بعونہ سبحانہ سب کاکشف حجاب واظہار صواب کیا،فقیر نے اس تحریر کامل النحریر کانام "اَفْقَہْ الْمُجَاوَبَۃِ عَنْ حَلَفِ الطَّالِبِ عَلٰی طَلَبِ الْمُوَاثَبَۃِ"رکھا۔وضاحت مرام وازاحت اوہام تو اسی تحریر پر محمول۔یہاں نفس حکم بکمال اجمال مذکور۔ سوال کہ یہاں ارسال ہوا،اور دوسرا کہ فتوٰی منسبلکہ میں تھادونوں نہایت گول اور ناتمام ہیں ان میں سے کسی پر ایك حکم قطعی کہ یہاں شفیع کا حلف لیں گے یا مشتری کا،ہرگز نہیں ہوسکتا بلکہ حق تفصیل ہے۔اولا نظر کی جائے،آیا شفیع نے طلب اشاد بینہ عادلہ سے ثابت کردی یا وہ بھی ناکام رہی،درصورت ثانیہ ہر گز شفیع کا حلف نہ لیا جائے گا۔نہ مسموع ہوگا کہ شفیع ثبوت حق شفعہ کا دعوٰی کرتاہے۔اور مشتری منکر ہے۔اور شرعا حلف منکر پر ہے نہ کہ مدعی پر، رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم حدیث مشہورمیں فرماتے ہیں:
|
البینۃ علی المدعی والیمین علی من انکر [1]۔ |
مدعی پر گواہ اور منکر پر قسم لازم ہے۔(ت) |
ولہذا عامہ کتب معتمدہ میں تصریح فرمادی کہ بحال وانکار مشتری شفیع اپنی طلب بے گواہوں کے ثابت کرہی نہیں سکتا۔
ہدایہ وتبیین الحقائق وتکملہ طوری میں ہے:
|
لانہ یحتاج الی اثبات طلبہ عندالقاضی ولایمکنہ ذٰلك الابالاشہاد [2]۔ |
کیونکہ قاضی کےہاں وہ اپنی طلب کو ثابت کرنے کا محتاج ہے جبکہ یہ گواہ بنائے بغیر ا س کےلئے ممکن نہیں۔(ت) |
اور اگر طلب شہاد بینہ شرعیہ سے ثابت ہوچکی ہے۔تو اب طلب مواثبت کے باب میں تین صورتیں ہیں:
(۱)اگر شفیع اپنی طلب مواثبت کے لئے کوئی وقت اس طلب اشہاد مشہود ومعہود ثابت بالبینہ سے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع