30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فی ردالمحتار باع احد شریکین فی دارحصہ منہا للاخرفجاء ثالث وطلب الشفعۃ فان کان شریکا قمست بینہ وبین المشتری لانہما شفیعان ای اذا طلب ولم یسلم للشفیع الاٰخر[1] اھ مختصرا۔واﷲ تعالٰی اعلم |
ردالمحتارمیں ہے ایك مکان میں دوشریکوں میں سے ایك نے اپنا حصہ شریك کے پاس فروخت کیا تو ایك تیسرا شخص آیا اس نے شفعہ کا مطالبہ کیا اگر وہ بھی مکان میں شریك ہو تو وہ مکان شفیع اور مشتری میں مشترکہ قرار پائے گاکیونکہ وہ دونوں شفعہ کےحقدار ہیں یعنی جب تیسرے نے اپناحق شفعہ نہ چھوڑا اور مطالبہ پرقائم رہا اھ مختصرا۔والله تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ۲۰: از دیورنیا تحصیل بہیڑی ۱۷ صفر مظفر ۱۳۱۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ میں کہ موضع دیورنیا میں تخمینا دو بسوہ زمینداری ہے۔منجملہ اس کے تخمینا ۵ کچوانسی خلیل الدین کے پاس،اور ۱۰ کچوانسی خواجہ بخش کے پاس،او نمبرداری دونوں بسوہ پر خواجہ بخش کی ہے۔دیگر نے انہی دو بسوہ سے ۱۶ بسوانسہ خلیل الدین کے ہاتھ بیع کی،تو شفعہ خواجہ بخش اور خلیل الدین کس کو کتنا پہنچتاہے؟ بینوا توجروا
الجواب:
اگر وہ دیہہ مملوکہ ہے کہ زمیندار اس میں اپنے اپنے حصوں کے مالك ہیں،تو بلا شبہ اس میں حق شفعہ جاری ہے اور خلیل الدین مشتری اور خواجہ بخش دونوں شفیع ہیں،خواجہ بخش اگر طلب مواثبت وغیرہ شرائط بجالایا اور کل مبیع ۱۶ بسوانسی پوری پر بذریعہ شفعہ دعوٰی کیا تو اگر خلیل الدین مزاحمت کرے تو آٹھ بسوانسی خلیل الدین کے پاس رہیں گے،اور آٹھ بسوانسی شفعہ خواجہ بخش کو دلادی جائینگی اس بات پر کچھ لحاظ نہ ہوگا کہ ان میں ایك دوکچوانسی کا مالك ہے اور دوسرا دس کا،اور اگر خلیل الدین مزاحمت نہ کرے بلکہ کل دے دے تو کل خواجہ بخش کو ملے گی،اور اگر خواجہ بخش نے کل مبیع پردعوٰی نہ کیا بلکہ یہ سمجھ کر کہ مجھے آدھی ملیں گی،ابتداء آٹھ ہی بسوانسی پر شفعہ چاہا،تو اس کا حق شفعہ ساقط ہوا،اب کچھ نہ پائے گا،ردالمحتارمیں ہے:
|
ذکر فی الخیریۃ ان کون الارض عشریۃ اوخراجیۃ لا ینافی الملك ففی کثیر من الکتب ارض الخراج او العشر |
خیریہ میں مذکور ہے کہ زمین کا عشری یا خراجی ہونا ملکیت ہونے کے منافی نہیں ہے تو بہت سی کتب میں ہے کہ مملوکہ عشری یاخراجی زمین کا فروخت کرنا،وقف |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع