30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کی زمین مملوك ہے۔اور شرعا خلیط جار پر مقدم۔کما ھو فی عامۃ الکتب(جیسا کہ یہ عام کتب میں ہے۔ت)پس صورت مسئولہ میں برتقدیر مدعی ہونے کسی شریك فی نفس المبیع کے عمرو ہے۔نہ بکر اور عمرو شرائط شفعہ بجالایا تو در صورت عدم مزاحم مکان مبیع کو بکر سے لے سکتاہے۔والله تعالٰی اعلم وعلمہ اتم واحکم۔
مسئلہ ۱۸:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك مکان واقع کوچہ غیر نافذہ ایك شخص اجنبی کے ہاتھ کہ اس مکان سے کوئی علاقہ شفعہ نہیں رکھتا فروخت ہوا،راستہ اسی مکان کا اراضی پیش دروازہ زید ہے۔اور راہ دونوں کو شارع عام تك مشترک،پس زید بعد بجا آوری شرائط شفعہ بحسب شفعہ دعوٰی کرتاہے۔اس صورت میں وہ مکان زید کو مل سکتاہے یانہیں۔ بینوا توجروا
الجواب:
صورت مسئولہ میں زید خلیط فی حق المبیع ہے۔اور حق شفع اس کے لئے ثابت،پس جس صورت میں کہ وہ سب شرائط بجالایا اگر کوئی خلیط فی نفس المبیع مدعی شفعہ نہ ہو،تو مکان اسے قطعا مل سکتاہے والله تعالٰی اعلم وعلمہ اتم واحکم۔
الجواب الصحیح محمد نقی علی میاں
مسئلہ ۱۹: ۲۷ صفر ۱۳۱۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك مکان کی اراضی میں زید کے چند ورثہ شریك ہیں،ان میں سے بعض نے اپنے حصے عمرو شخص اجنب کے ہاتھ بیع کردئے،پھر ان اشخاص میں سے جنھوں نے اپنے حصے بیع نہیں کئے تھے ایك نے اسی عمرو کے ہاتھ اپنا حصہ بیع کردیا،اب ان اشخاص مذکورین میں ایك شخص شفیع ہے۔تو یہ شخص عمرو اجنب پر ترجیح رکھتاہے یانہیں؟ اور اس اراضی مبیعہ کو عمرو سے شفعہ میں لے سکتا ہے یانہیں؟بینوا توجروا
الجواب:
عمرو جبکہ ایك حصہ اسی زمین کا خرید چکاہے۔اور ہنوز حدود جدا نہ ہوں تو وہ بھی شریك ہے اور یہ شفیع بھی شریك ہے تو کسی دوسری پر ترجیح نہیں،اگر اس شریك نے بیع ثانی کی کل مبیع کا مطالبہ بذریعہ شفعہ کیا اور عمرو دینے پر راضی نہ ہوا،تو نصف شفیع کو دلادیں گے، اور عمرو راضی ہوگیا تو کل دلادیں گے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع